سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

پاکستان کی بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
<link type="page"><caption> پارلیمان ججز کی تقرری کے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کرے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101021_journalist_niazbugti_dies.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اٹھارویں ترمیم پر فیصلے سے ’تناؤ ختم‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/10/101021_sc_video.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق پاکستان کی حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما راجہ ظفرالحق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا یہ عبوری فیصلہ ہے اور اس میں بنیادی طور پر پارلیمنٹ کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرسکتی ہے اور پارلیمنٹ آئین میں ججوں کی تعیناتی کا جو بھی طریقہ کار رکھنا چاہیے وہ بھی کرسکتی ہے۔‘
لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے سکے۔
راجہ ظفرالحق نے کہا کہ ملک میں جو بحرانی صورت حال پیدا ہوئی تھی وہ اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے ٹل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام اور ججوں کی تعیناتی کے عمل پر بھی اس عدالتی فیصلے کا مثبت اثر پڑے گا۔
پاکستان کی جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن نے بھی اٹھارویں ترمیم کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے پارلیمان اور عدلیہ کا احترام بڑھے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منصورہ سے جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’یہ سپریم کورٹ کا بہترین فیصلہ ہے اور اس کی سفارشات پر غور کیا جانا چاہیے۔‘
منور حسن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی سفارشات قابل قبول ہیں اور حکومت کسی رد عمل اور اشتعال کے بغیر ان پر غور کرے۔
جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ ان تجاویز پر عملدر آمد سے نظام مضبوط ہو گا اور اداروں کے درمیان تصادم کے امکانات کم ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ ’سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مناسب وقت دیا ہے تاکہ حکومت کو غور و فکر کا موقع ملے اور پارلیمنٹ میں موجود جماعتیں اور ان کے ارکان اپنا موقف پیش کر سکیں اور اتفاق رائے سے ہی کسی مثبت نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔‘
حمکران جماعت پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کی طرف سے اسی فیصلے کی توقع تھی کیوں کہ آئین کے مطابق پارلیمان بالا دست ہے اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمان کی خود مختاری کی تائید کی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش اور توقع بھی یہی تھی کہ تمام آئینی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے وہ لوگ مایوس ہوئے اور ان کی خواہشات دم توڑ گئیں جو یہ سوچ رہے تھے کہ عدلیہ اور پارلیمان کی لڑائی ہوگی۔



















