’بند توڑنے جانے پر رپورٹ پیش کریں‘

سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کے دوران سندھ اور بلوچستان میں بااثر افراد کی طرف سے سیلاب کا رخ موڑنے کے لیے مبینہ طور پر حفاظتی بند توڑنے کے از خودنوٹس کی سماعت کے دوران وفاق، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جیکب آباد میں واقع شہباز ائربیس کو بچانے کے لیے مختلف جگہوں سے بند توڑے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ائربیس امریکی افواج کے استعمال میں ہیں لہذا امریکیوں کے دباؤ پر مختلف علاقوں میں بند توڑنے گئے جس کی وجہ سے غریب کسانون کی فصلوں کو ڈبو دیا گیا۔ اس کے علاوہ بااثر افراد نے بھی اپنی فصلیں بچانے کے لیے مختلف جگہوں سے بند توڑے۔
ماروی میمن نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی اس کے خلاف آواز اُٹھائی تھی لیکن اُنہیں وہاں سے انصاف نہیں ملا جس کے بعد وہ سپریم کورٹ آئی ہیں۔
سماعت کے دوران سروے آف پاکستان کی جانب سے مختلف بیراجوں اور حفاظتی پشتوں سے متعلق تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مختلف اخبارات میں جو خبریں آئی ہیں اُس سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ بااثر افراد نے اپنی زمین بچانے کے لیے حفاظتی بند توڑے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان سے کہا ہے کہ وہ ماہرین کی مدد سے بند توڑے جانے سے متعلق الگ الگ رپورٹس عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے وفاق کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے علاوہ وزارت پانی و بجلی، وزارت خزانہ اور نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سماعت دس نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
عدالت نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے والے مختلف نجی ٹی وی چینلز کے میزبانوں سے بھی کہا کہ اگر وہ چاہیں تو عدالت میں علاقے کی صورت حال سےمتعلق بیان جمع کروا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سابق گورنر سندھ فخر الدین جی ابراہیم نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ سیلاب میں بلوچستان اور سندھ کے بااثر افراد نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے مختلف جگہوں سے حفاظتی بند توڑے اور اس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















