مڈ ٹرم انتخاب بھول جائیں: وزیر اعظم

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے منگل کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ملک میں وسط مدتت انتخابات ہوں گے اور نہ ہی فوج مارشل لاء لگائے گی۔
یہ بیان انہوں نے قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے جواب میں دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام موجودہ حکمرانوں سے تنگ ہیں اور ان کی جماعت اب وسط مدت کے انتخابات کو ایک حل سمجھتی ہے۔
چوہدری نثار علی خان کا یہ بیان وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ وزیراعظم کے لب و لہجے میں سختی نظر آئی اور انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو وسط مدت سے پہلے بلدیاتی انتخابات کروا کر دیکھ لیں تو اپنی انہیں مقبولیت کا پتہ چل جائے گا۔
منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور جس وقت وزیراعظم نے بیان دیا اس وقت چوہدری نثار علی خان موجود نہیں تھے۔ البتہ ان کی جماعت کے ایک رکن حنیف عباسی نے نکتہ اعتراض پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اب مزید صبر نہیں کرسکتے اور حکمرانوں کو پانچ برس تک ملک لوٹنے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے اپنی جماعت کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ’فرینڈلی اپوزیشن‘ نہ بنیں اور حکومت کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنائیں۔
جب حنیف عباسی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اس وقت بعض وزیر اور پیپلز پارٹی کے کچھ سرکردہ اراکین اسمبلی بھی موجود تھے لیکن بجائے وہ جواب دیتے، وزیراعظم خود ہی جواب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ ایک منتخب اور خودمختار ایوان ہے اور یہی تمام معاملات کو حل کرنے کا فورم بھی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج آپ نے دیکھ لیے اور اب بلدیاتی انتحابات کرائیں پتہ چل جائے گا۔ ہم کسی کی خواہش کی تکمیل نہیں کرسکتے۔ کسی کو خیبر پختونخوا میں مینڈیٹ ملا تو کسی کو پنجاب میں اور کسی کو سندھ میں تو کسی کو بلوچستان میں۔ سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مڈ ٹرم الیکشن کیسے ہوگا؟ پھر خود ہی جواب بھی دیا کہ ’یا تو میں اسمبلی توڑوں یا پھر مارشل لاء لگے۔ میں اسمبلی توڑوں گا اور نہ فوج مارشل لاء لگائے گی کیونکہ یہ جمہوریت نواز فوج ہے اور یہ کسی کی غلط فہمی ہوگی کہ فوج مارشل لاء لگائے گی۔‘
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت چارٹر آف پاکستان پر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کی وضاحت تو کریں کہ یہ ہے کیا؟ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ ’آپ آئیں بیٹھیں ہم آپ سے رہنمائی لینے کو تیار ہیں۔‘
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے چند روز قبل کہا تھا کہ ملک کو خراب صورتحال سے نکالنے کے لیے ’میثاق پاکستان‘ کی ضرورت ہے جو پچیس سال کا ایجنڈا ہو۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں، عدلیہ، فوج اور میڈیا کو مل کر یہ ایجنڈا طے کرنا چاہیے۔
ان کے اس بیان پر بعض حلقوں نے تنقید کی کہ نواز شریف کی تجویز انیس سو تہتر کے آئین اور میثاق جمہوریت کی نفی ہے کیونکہ آئین میں فوج، میڈیا یا عدلیہ کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہے۔



















