اوباما سے مسئلہ کشمیر کے حل کی استدعا

    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفر آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کو بچوں نے ایک ریلی نکالی جس میں امریکی صدر براک اوباما سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرانے اور وادی میں ہندوستان کی مبینہ زیادتیاں رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مظفرآباد میں نکالی جانے والی اس ریلی میں کوئی دو سو بچوں نے شرکت کی اور یہ ایک ایسے وقت پر نکالی گئی جب امریکہ کے صدر سنیچر کو اپنے پہلے دورے پر ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔

اس ریلی میں شریک بچوں نے امریکی صدر کی تصویروں کے علاوہ بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کی آزادی کے حق میں اور ہندوستان مخالف نعرے تحریر تھے۔

ایک بڑے بینر پر یہ تحریر تھی ’اوباما کشمیر چلڈرن اسمبلی آپ کی توجہ چاہتی ہے‘۔

کشمیر چلڈرن اسمبلی بچوں کا ایک فورم ہے جس کا قیام کشمیر کی ایک غیرسرکاری تنظیم سویرا فانڈیشن عمل میں لایا ہے۔

اس ریلی میں کشمیری پناہ گزینوں کے بچے بھی شریک تھے جن کے والد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کے دوران ہلاک ہوئے۔

اس سے پہلے بچوں نےایک قبرستان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما سے مطالبہ کیا کہ وہ دو ہزار آٹھ صدارتی انتخابی مہم کے دوران مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کریں۔

یہ وہ قبرستان تھا جہاں ایسے کشمیری بھی دفن ہیں جو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کے دوران ہلاک ہوئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر چلڈرن اسمبلی کے صدر بلال عبداللہ نے کہا ’سنہ انیس سو سینتالیس سے اب تک کشمیریوں کا قتل عام ہورہا ہے، ہم صدر اوباما سے مطالبہ کرتے ہیں وہ کشمیر کے اس خطے میں مظالم کے خاتمے کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے مداخلت کریں۔‘

شرکاء اس وقت جذباتی ہوگئے جب بلال نے کہا ’کشمیر کی تحریک میں میرے والد شہید ہوئے، مجھے اور میرے خاندان والوں کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں دفن ہیں۔‘

’کشمیر میں دس ہزار لوگ لاپتہ ہیں، ان کے ساتھ ہندوستان کی قابض فوج نے کیا کیا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات کوئی راز نہیں کہ ان میں سے اکثر کو زیر حراست شہید کیا گیا۔‘

بلال کے والدین نوے کی دہائی میں پناہ کی خاطر لائن آف کنٹرول عبور کرکے وادی کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آگئے تھے۔

بعد ازاں ان کے والد، خاندان کے بقول، وادی میں بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔

اس احتجاج میں شریک دانش نذیر کے والد اسی قبرستان میں دفن ہیں جو سنہ انیس سو ننانوے میں کارگل کی لڑائی میں ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے والدین کا تعلق وادی کشمیر سے ہے اور وہ بھی نوے کی دہائی کے اوائل میں وادی کشمیر سے مظفرآباد آگئے تھے۔

دانش نذیر نے اس موقع پر کہا ’ہم نے بہت اموات دیکھیں، ہمارے وطن میں بہت یتیم اور بیوائیں ہیں، اللہ ہماری مشکلات ختم کرے۔‘

اس ریلی میں شریک ایک اور کشمیری بچے ارتضیٰ محمد نے کہا کہ ’ ہم نے بہت تباہی اور اموت دیکھی ہیں اب ہمیں امن چاہیے، جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے خواں وہ کسی بھی رنگ، نسل اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔‘

بچوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی نیوز کانفرس کے لیے علامتی طور پر قبرستان کا انتخاب کیا تاکہ ہم دنیا کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ اس دن کا انتظار نہ کرے جب پورا کشمیر قبرستان میں تبدیل ہو جائے گا۔