جنرل سیلز ٹیکس بِل اسمبلی میں

وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بل کے علاوہ ترمیمی فنانس بل قومی اسمبلی پیش کردیا جس میں سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لئے فلڈ ریلیف سرچارج اور ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کی تجویز دی ہے۔
قومی اسمبلی میں نواز لیگ، ایم کیو ایم اور قاف لیگ نے اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بل کے خلاف احتجاج کیا۔ وفاقی کابینہ نے بدھ کو فلڈ ریلیف ٹیکس اور اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کی اصولی منظوری دی تھی۔
یہ بل ایوان میں پیش ہونے سے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس کا دفاع کیا اور کہا کہ اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ متفقہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نےاس بل میں اصلاحات کی حمایت کی اور حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی ان اصلاحات پر اتفاق کیا۔
انھوں نے کہا کہ اب کابینہ نے بھی متفقہ طور پر اس کی منظوری دی ہے جس کے بعد اس کو ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بل ملک کے مفاد میں ہے اور یہ کہ ہم نے صوبوں کو کہا کہ سیلاب زگان کی مدد کے لیے160 ارب روپے درکار ہیں تو صوبوں نے انکار کر دیا اور ہم نے کہا کہ وفاق یہ رقم فراہم کرے گی۔
قومی اسمبلی میں نواز لیگ، ایم کیو ایم اور قاف لیگ نے اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بل کے خلاف احتجاج کیا۔
جس وقت یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس وقت تینوں جماعتوں نواز لیگ، ایم کیو ایم اور قاف لیگ کے اراکین نشستوں پر کھڑے ہوئے اور ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف نعرے لگائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی نے اپنی تقریر کہا کہ یہ بل عوام کے خلاف ہے اور ہم اسمبلی کو عوام کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اب تک جو کابینہ کے اجلاس ہوئے ان میں سیلز ٹیکس کے بل پر بات نہیں کی گئی۔
لیکن وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس پر جھگڑے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ ایوان میں بحث ہوگی اور یہ اراکین کا حق ہے کہ وہ اس کو منظور یا مسترد کریں۔
اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بل کے پیش ہونے کے بعد وفاقی وزیر حزانہ عبدالحفیظ شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے باعث ٹیکس کی شرح کم ہوگی لیکن یہ وسیع البیناد ہوگا۔
جنرل سیلز ٹیکس میں اصلاحات کے بل کے علاوہ قومی اسمبلی میں ترمیمی فنانس بل بھی پیش کیا گیا ہے جس میں سیلاب متاثرین کے لئے فلڈ ریلیف سرچارج اور درآمدات اور مقامی مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ نے بدھ کے روز اپنے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلڈ ریلیف سرچارج اور درآمدات اور مقامی مصنوعات پر خاص ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے حکومت کو بیالیس ارب روپے کی آمدن ہو گی۔



















