ریموٹ کنڑول دھماکے میں تین افراد زخمی

فائل فوٹو، مہمند ایجنسی،
،تصویر کا کیپشنواقعہ کے بعد پولیس نے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے
وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں پیش امام سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں نے لڑکوں کے ایک اور پرائمری سکول کو دھماکے سے تباہ کردیا ہے۔

ایس پی رورل پشاور عبدالکلام نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح پشاور کے نواحی علاقے ادیزئی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب ایک بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔

انہوں نے کہا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا جس سے اردگرد موجود تین افراد زخمی ہوئے جب کہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں ایک مقامی مسجد کے پیش امام بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں کو تباہ کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے
،تصویر کا کیپشنمہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں کو تباہ کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے

خیال رہے کہ ادیزئی پشاور شہر کے قریب ایک مضافاتی علاقہ ہے جس کے حدود قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔ اس علاقے میں مقامی لوگوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف لشکر بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں اکثر اوقات طالبان اور مقامی لوگوں کے مابین جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق دوسری طرف قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ واقعہ میں ایک اور سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔

ایک پولیٹکل اہلکار کے مطابق یہ واقعہ تحصیل صافی کے علاقے ادین خیل میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات اس وقت پیش آیا جب مسلح عسکریت پسندوں نے لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے سے سکول کے دو کمرے اور چاردیواری مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد نے تحصیل صافی کے علاقے میں حکومتی حامی امن کمیٹی کے ایک رکن ملک علی رحمان کے مکان کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں طالبان کے ایک ترجمان نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے مہمند ایجنسی میں طالبان کی کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس دوران سرکاری سکولوں پر سب سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔ کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ شدت پسندوں نے ایک ہی رات میں تین تین سرکاری سکولوں کو تباہ کر دیا تھا۔