ججزتقرری:پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل مکمل

پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بائیس نومبر کو بلایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنپارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بائیس نومبر کو بلایا گیا ہے
وقت اشاعت

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے لیے چار ارکان کی نامزدگی کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

نامزد ہونے والے ارکان میں قومی اسمبلی سے آفتاب شعبان میرانی (سندھ) اور عاصمہ ارباب عالمگیر (خیبر پختونخواہ) اور سینٹ سے نیر بخاری (پنجاب) اور صابر بلوچ (بلوچستان) شامل ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے منگل کو وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ان کی سفارشات پر ان ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دی ہے اور اس میں چاروں صوبوں اور خواتین کو نمائندگی دی گئی ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے تحت اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کے نامزد کردہ امیدواروں کی حتمی منظوری آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی دے گی جس میں چار ارکان حکومت اور چار حزب اختلاف سے ہوں گے۔

حزب اختلاف پہلے ہی پارلیمانی کمیٹی کے لیے چار ارکان نامزد کر چکی ہے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

ان میں سینٹ سے مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور مسلم لیگ نون کے اسحاق ڈار کے علاوہ قومی اسمبلی سے مسلم لیگ نون کے سردار مہتاب عباسی اور مسلم لیگ قاف کے غوث بخش مہر شامل ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بائیس نومبر کو بلایا گیا ہے جس میں ممکنہ طور پر جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے نامزدگی پر غور ہوگا جنہیں حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔