شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چار ہلاک

جلال الدین حقانی
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کو جلال الدین حقانی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے
وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے تمام افراد مبینہ طور پر جلال الدین حقانی گروپ سے تعلق رکھنے والے افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق ایک امریکی جاسوس طیارے نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور مغرب کی جانب عیدک کے علاقے میں میرعلی سے مرسی خیل جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

حکام کے مطابق جاسوس طیارے سے گاڑی پر دو میزائل فائر کیے گئے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ اہلکار نے بتایا کہ حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

حکام کے مطابق میزائل حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کے علاقے کے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔

ڈرون
،تصویر کا کیپشنامریکہ نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں

پشاور سے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے مطابق دھماکے کے بعد طالبان نے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اس علاقے میں حقانی گروپ کے سینکڑوں لوگ موجود ہیں جو علاقے میں کُھلے عام پھرتے ہیں۔ میرانشاہ میں جلال الدین حقانی کا ایک مدرسہ بھی تھا جسے انتظامیہ نے دو سال پہلے منہدم کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ نے ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد کہ شدت پسند یورپی شہروں پر ممبئی کی طرز کے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں جنوبی و شمالی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جہاں غیر مُلکی جنگجو اور مقامی طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی یہی دو قبائلی علاقے ہیں۔