کشیدگی کا ایک مشکل دور ختم ہوگیا:روس

کشیدگی پر مبنی ایک انتہائی مشکل دور کا خاتمہ ہو گیا ہے:دیمتری میدویدیو
،تصویر کا کیپشنکشیدگی پر مبنی ایک انتہائی مشکل دور کا خاتمہ ہو گیا ہے:دیمتری میدویدیو
وقت اشاعت

روس نے کہا ہے کہ وہ نیٹو ممالک کے دفاعی میزائل نظام کی تنصیب میں تعاون پر تیار ہے لیکن اس کے لیے اس اس منصوبے سے متعلق تمام معلومات درکار ہوں گی۔

پرتگال کے شہر لزبن میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر دمیتری میدویدیو کا کہنا تھا کہ کشیدہ تعلقات پر مبنی ایک انتہائی مشکل دور ختم ہو گیا ہے۔

دفاعی میزائل نظام میں روسی تعاون پر بات کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندریس فوگ راسموسین نے کہا کہ فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا ہے جس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ نیٹو اور روس ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

نیٹو سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں فریق اپنے دفاع کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ روس ماضی میں اس دفاعی میزائل نظام کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے بارے میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ یہاں مذاکرات کے لیے بہت تعمیری ماحول تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے عزائم بہت بلند ہیں۔ ہم ہر سمت میں کام کریں گے جس میں یورپی میزائل دفاعی نظام بھی شامل ہے اور روس اور نیٹو بات چیت اس تعاون کا مظہر ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی اس منصوبے کی کافی تفصیلات مبہم ہیں اور یہ منصوبہ صرف اسی وقت پرامن رہے گا جب اس سے سب کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’ہم مکمل معلومات ملنے پر ہی تعاون کریں گے ورنہ ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے‘۔

دمیتری میدویدو نے سابق امریکی صدر جارج بش کے دفاعی میزائل نظام کے منصوبے کو رد کرنے کو موجودہ امریکی صدر براک اوباما کا ’جرات مندانہ اقدام‘ قرار دیا۔

دو برس قبل روس اور جارجیا کےمابین ہونے والی کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ روس نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

نیٹو سیکرٹری جنرل آندریس راسموسین نے روس اور نیٹو کے درمیان معاہدے کو فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کی طرف بڑھتے ہوئے کسی بھی بیلیسٹک میزائل کے خطرے کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور ایسے میزائل کو مار گرایا جائے گا۔

راسموسن کے مطابق،’نیٹو اتحاد اور روس کو یکساں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہےاور وہ ایک دوسرے کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ روس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے براستہ روس مزید سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔