مشرف سے پوچھ گچھ کرنے کاسوالنامہ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے سابق صدر پرویز مشرف سے پوچھ گچھ کرنے سے متعلق ایک سوالنامہ وزارت داخلہ کو بھیجا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے وسیم احمد کا کہنا ہے کہ سابق صدر کو اس قتل سے متعلق تحقیقات کے لیے سوالنامہ وزارت داخلہ کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد بھجوایا جائے گا۔
بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں سانحہ کارساز کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن القاعدہ اور طالبان کی ہٹ لسٹ پر تھیں اور اس کے باوجود اُن کی سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔
سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو نے اپنی سکیورٹی سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
سوالنامے میں مزید پوچھا گیا ہے کہ 27 دسمبر سنہ 2007 کو لیاقت باغ کے باہر سکیورٹی کے بہتر انتظامات کیوں نہیں کیے گئے جبکہ اس بات کی نشاندہی بےنظیر بھٹو کی سیکورٹی کے بارے میں متعلقہ افراد نے متعدد بار کی تھی۔
تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق اس سوالنامے میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو دھونے کے احکامات کس نے دیے تھے۔
اس کے علاوہ یہ کہ اس قتل کے ایک روز بعد ہی پریس کانفرنس کرکے اس واقعہ میں ملوث ذمہ داروں کا تعین کیسے کیا گیا۔
اس سوالنامے میں اُس وقت کے وزارت داخلہ کے کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے بقول اُنہوں نے یہ پریس کانفرنس سابق صدر پرویز مشرف کے کہنے پر کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جو چالان پیش کیا ہے اُس میں یہ کہا گیا ہے کہ بےنظیر بھٹو کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کے نامکمل چالان میں اُس وقت کے سٹی چیف پولیس افسر سعود عزیز اور ایس پی راول ٹاون خُرم شہزاد پر وقوعہ کے روز سکیورٹی کے معاملات میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ اگر سیکورٹی کے بہتر اقدامات کیے جاتے تو بینظیر بھٹو کی جان کو بچایا جاسکتا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے وسیم احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے پوچھ گچھ کرنے سے متعلق فیصلہ وزارت داخلہ کی طرف سے حتمی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ پرویز مشرف ان دنوں لندن میں قیام پذیر ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے سابق صدر سے بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق پوچھ گچھ کے طریقہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت منگل کے روز بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان پر فرد جُرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔



















