ایجنسیوں کا کردار ختم کیا جائے: بلوچ رہنما

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
بی بی سی کے ایک مباحثے میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن پارٹی کے بلوچ رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر سیاست میں انٹیلی جنس ایجنیسوں کی مداخلت اور ان کا سیاسی کردار ختم کر دیا جائے تو بیشتر مسائل ویسے ہی حل ہوجائیں گے۔
خصوصی طور پر منعقدہ اس مباحثے میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر صابر بلوچ اور حزب مخالف کی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل خان بزنجو نے شرکت کی۔
مباحثے کا موضوع تھا کہ بلوچستان کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ’آغاز حقوقِ بلوچستان پیکیج‘ کا اعلان ہوئے ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ اس عرصے میں کیا تبدیلی آئی ہے اور فوری طور پر حکومت ایسے کیا اقدامات کرے کہ معاملات بہتری کی طرف جاسکیں۔
مباحثے میں سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دو بہت بڑے کام کیے ہیں جن میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل میں صوبوں کو پچاس فیصد حقِ ملکیت دینا اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کو زیادہ حصہ دینا شامل ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت ان اقدامات پر من و عن عمل کروائے تو ہی صوبوں کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔
سینیٹر صابر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بعض شدت پسندی کی وارداتوں میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے ملزمان کی جیبوں سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر حکومت یہ کرسکے کہ سیاست سے ایجنسیوں کا کردار ختم کردے تو بلوچستان میں حالات بہتر ہوسکتے ہیں‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے لیے وہ کچھ کیا ہے جو ماضی کی کسی حکومت نے نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے مشاورت کی اور تین جرگے منعقد کیے۔
سینیٹر صابر بلوچ نے کہا کہ لوگوں کی مشاورت کے بعد صوبائی خودمختاری دی گئی، برسوں سے قرض پر چلنے والے بلوچستان کا اوور ڈرافٹ ختم کیا گیا، سیاسی کارکنوں کو رلیف دیا گیا، پانچ ہزار لوگوں کو روز گار دیا گیا اور قدرتی وسائل پر صوبے کا حقِ مالکیت تسلیم کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے آئین کے مطابق مرکز میں پندرہ ہزار ملازمتیں اس کا حق بنتا ہے جو ابھی تک نہیں ملا۔ ان کے بقول جو پانچ ہزار ملازمتیں دی ہیں ان کا چند برسوں تک خرچہ مرکز اٹھائے گا اور بعد میں پتہ نہیں کہ چلیں گی کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیے حکومت کے اعلان کردہ پیکیج کے دوران وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے گا اور وہ عید اپنے گھر میں منائیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ گمشدہ سیاسی کارکن جو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس تھے، رہا نہیں ہوئے بلکہ الٹا ’مزید افراد کو اٹھالیا گیا‘۔
حاصل بزنجو نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل کی وارداتوں میں موجودہ حکومت کے دور میں اضافہ ہوگیا ہے۔



















