ملک میں بارہ سو افراد لاپتہ

وقت اشاعت

سپریم کورٹ میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے لاپتہ ہونے والے افراد کی درخواستوں کی سماعت کے دوران پیش کیے جانے والے اعداوشمار کے مطابق ابھی تک ملک کے مختلف علاقوں سے لا پتہ ہونے والے افراد کی تعداد بارہ سو کے قریب ہے جن میں سے تین سو سے زائد افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے جبکہ ان میں سے بہت کم افراد ابھی تک بازیاب ہوئے ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق متضاد رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہیں جس کے مطابق ہومین رائٹس کمیشن کی طرف سے عدالت میں پیش کی جانے والی فہرست کے مطابق تین سو سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کمیشن نے نو سو پچاس افراد کی گمشدگی کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جن میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد تین سو کے قریب ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق درخواستبوں کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ کی طرف سے جمع کروائی گئی فہرست میں ایسے افراد کی تعداد ایک سو چالیس سے زائد نہیں ہے۔

لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے وزارت داخلہ میں جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور عالم کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس نے سرکاری اعداوشمار کے مطابق ابھی تک 74 افراد کا پتہ چلایا ہے اور یہ افراد خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان افراد کو ابھی تک اُن کے ورثاء کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق بنایا جانے والا کمیشن چار ماہ کا عرصے گُزرنے کے باوجود ابھی تک اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش نہیں کرسکا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی بحالی کے بعد بڑی توقعات تھیں کہ لاپتہ ہونے والے افراد بازیاب ہوجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اس کمیشن کے قیام کی وجہ سے لاپتہ ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور جو افراد ابھی بازیاب بھی ہوئے ہیں اُنہیں بھی ملنے نہیں دیا جارہا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی سے متعلق بنائے جانے والی کمیشن کے مینڈٹ میں چار ماہ کی توسیع کردی ہے جس کے بعد کمیشن ان افراد سے متعلق اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرے گا۔