پولیس کے خلاف ایف آئی آر بحال

سپریم کورٹ کی مداخلت پر صوبہ پنجاب کی پولیس نے لاہور میں وکلاء پر تشدد کے واقعہ سے متعلق درج کی جانے والی چار ایف آئی آر بحال کر دی ہیں۔
یہ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج تھیں۔ عدالت نے پولیس کو اس واقعہ کے تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس واقعہ سے متعلق جن پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے وہ واپس لے لیے گئے ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کس کے حکم پر یہ مقدمات واپس لیے گئے ہیں۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث سے اس ضمن میں استفسار کیا کہ کیا اُن کے علم میں ہے کہ ایف آئی آر واپس لے لی گئی ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ پولیس کسی کے مشورے پر عمل نہیں کرتی اور انہوں نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی ہے۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ صوبے کی پولیس کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس آرڈر سنہ دوہزار دو کے بعد پولیس کو لامحدود اختیارات ملنے کی وجہ سے وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں رہی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس طارق سلیم ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ جو ایف آئی آر ختم کی گئیں تھیں اُن میں پولیس اہلکار درخواست دہندہ تھے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر ختم کرنے سے متعلق طریقہ کار قانون میں درج ہے جس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق تحقیقات میں تمام پولیس اہلکاروں کو بری الزمہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو لاہور میں ایوان عدل میں پولیس اور وکلاء کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں چھ مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے چار مقدمات واپس لے لیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایوان عدل میں پولیس اہلکاروں نے جب وکلاء پر دھاوا بولا تو اُس وقت علاقے کے ایس پی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے۔
آئی جی پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نہ صرف ایف آئی آر بحال کردی گئی ہیں بلکہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق فریقین کے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو تو وہ عدالت کے سامنے کیا جائے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارے بیچارے غریب وکیل جاتے ہیں اور لیڈر سودا کرلیتے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس اس واقعہ کی ویڈیو اور تصاویر موجود ہیں جو اس واقعہ کی تفتیش میں مدد دیں گی۔ عدالت نے پولیس کو ان مقدمات کی تفتیش دو ہفتوں میں مکمل کر کے عدالت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔



















