کوئی عالمی ایجنڈا نہیں:جماعت الدعوہ

وقت اشاعت

جماعت الدعوہ نے کہا ہے کہ نہ تو اسکا کوئی عالمی ایجنڈہ ہے اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی نوعیت کے سیاسی عزائم ہیں۔

بھارت کے شہر ممبئی پر دہشتگرد حملوں کو آج دو سال پورے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کا الزام پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور اسکی ساتھی تنظیم جماعت الدعوہ پر لگا تھا اور اقوام متحدہ اور امریکہ نے جماعت الدعوہ اور اس کے رہنماؤں پر عالمی سطح پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوہ اور اسکی ساتھی جہادی تنظیموں کے عزائم عالمی نوعیت کے ہیں اور القاعدہ سے ملتے جلتے ہیں۔

جماعت الدعوہ کے ترجمان یحیٰ مجاہد نے بی بی سی اردو سروس کےساتھ ایک انٹرویو میں امریکہ کے اس الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ اس طرح کے الزامات جماعت الدعوہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستانی حکومت کو مجبور کرکے جماعت الدعوہ کے خلاف بہت زیادہ پابندیاں لگوائی جاسکیں۔

اس سوال پر کہ کیا دو سال پہلے ممبئی پر جو حملے ہوئے اور جس طرح کئی بے گناہ لوگوں کو مارا گیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا۔ ان کا جواب تھا کہ ہم نے اس وقت بھی اس کی تردید کی تھی کہ ان حملوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ جماعت الدعوہ کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لشکر طیبہ پر پابندی سے کچھ عرصہ پہلے ہی اسکی مرکزی تنظیم مرکز الدعوہ و الارشاد کا نام بدل کر جماعت الدعوہ رکھ دیا گیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بعد بین الاقوامی پابندیاں لگنے پر اب کہا جارہا ہے کہ جماعت الدعوہ فلاح انسانیت پاکستان کے نام سے سرگرم ہے۔ اس بارے میں یحی مجاہد نے کہا کہ فلاح انسانیت پاکستان ایک علحیدہ تنظیم ہے جس نے جماعت الدعوہ کے ساتھ مختلف ایشوز پر کوآرڈینیشن کی ہے۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ سوات آپریشن اور حالیہ سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لیے دونوں تنظیموں نے ملکر کام کیا ہے۔

اس سوال پر کہ پاکستان نے جماعت الدعوہ پر پابندی نہیں لگائی ہے مگر تنظیم کے دفاتر، اسکول اور اسپتال سرکاری تحویل میں چل رہے ہیں، ان اداروں کا انتظام واپس حاصل کرنے کے لیے جماعت الدعوہ نے اب تک قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی۔ یحیٰ مجاہد نے کہا کہ اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشورے کیے جارہے ہیں کہ سرکاری نگرانوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے۔