بلوچستان کا حل سیاست میں:نواز

نواز شریف(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن’بلوچستان کے پیکج میں ترقیاتی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ مراعات دینی چاہئیں تھیں‘
وقت اشاعت

پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے سربراہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کاحل گولی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملات کو سیاسی طورپر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم بلوچستان میں قیام امن کو یقینی بنائے بغیر پاکستان میں امن کا قیام ممکن نہیں بنا سکتے۔‘

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ نواز شریف نے سنیچر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات روز بروز خرابی کی طرف جا رہے ہیں جس سے بلوچستان اور پاکستان کے عوام پریشان ہیں اور یہ تمام معاملات احتیاطی تدابیر نہ کرنے کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا اور یہ کہ بلوچستان میں رہنے والے بلوچ، پشتون اور آبادکار موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اوریہ تمام حالات ملک میں جتنے بھی ڈکٹیٹر اورمارشل لاءگزرے ہیں ان کی غلط پالیسیوں کی بدولت پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے حالات کی نزاکت کو سمجھا نہیں اورکبھی شہر میں کبھی پہاڑوں میں کبھی سرداروں کے خلاف اورکبھی نوابوں کے خلاف آپریشن کئے۔

انہوں نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی کو بھی ختم کردیا اورسابق ڈکٹیٹر پرویزمشرف سرعام ڈھٹائی سے یہ کہہ رہا ہے کہ دوبارہ موقع ملا تو وہ اس طرح کی گھناؤنی کارروائیاں پھر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت نوجوانوں نے بے روزگاری، غربت سے پریشان ہو کر ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ فوری طورپر ان تمام محکموں کو ختم کردیں جو پاکستانی عوام پر بوجھ ہیں جن کی بدولت ہمیں بار بار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس جانا پڑتا ہے اور تمام غیر ترقیاتی اخراجات پچاس فیصد کم کردیں اورہم کب تک دوسرے کے آگے اپناہاتھ پھیلاتے رہیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1997 ءمیں بلوچستان میں ان کی پارٹی کی زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود انہوں نے بی این پی سے الحاق کر کے سرداراخترجان مینگل کو وزیراعلیٰ بنایا جو ’ہماری بلوچستان سے ہمدردی کاواضح ثبوت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معاملات کوٹھیک کرنے کے لئے پیکج میں بھی ترقیاتی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ مراعات دینی چاہئیں تھیں۔

ملک پر بالخصوص کوئٹہ میں امریکہ کی جانب سے مجوزہ ڈرون حملوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت جنرل پرویزمشرف سامنے ان حملوں کی مذمت اورمسترد کرتے جبکہ بعد میں انہیں اشارہ کرتے تھے کہ ڈرون حملے کرتے رہو اوریہ قوم سے ہیرا پھیری ہے۔