کوہاٹ میں چھاپے، ہلاکتیں اٹھارہ

وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونحواہ کے ضلع کوہاٹ میں بدھ کے روز ہوئے دھماکے کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے لگا کر چالیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد حود کش حملہ آور سمیت انیس ہو گئی ہے۔

کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر دلاور خان بنگش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد پولیس نے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور مشتبہ مقامات پر چھاپے لگائے گئے ہیں جہاں چالیس سے زیادہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک اہم مشبہ شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس سے تفتیشی ٹیمیں پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ یہ چھاپے کوہاٹ شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کوہاٹ کے تیراہ روڈ پر جہاں گزشتہ روز دھماکہ ہوا تھا وہاں قائم مختلف پلازوں میں قبائلی اور دیگر علاقوں سے لوگ رہائش اختیار کرتے ہیں جہاں سے زیادہ تر مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یاد رہے کوہاٹ کے تیراہ روڈ پر اورکزئی ایجنسی کے علاقہ کلایہ جانے والی گاڑیوں کے اڈے میں ایک کوچ کے پاس خود کش دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد خود کش حملہ آور سمیت انیس ہو گئی ہے جبکہ بتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز ہلاکتوں کی تعداد پندرہ بتائی گئی تھی۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقہ کلایہ سے بتایا گیا ہے جبکہ ایک مرد اور عورت کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے سر کمر سے بتایا گیا ہے۔

ضلعی پولیس افسر دلاور خان بنگش نے کہا ہے کہ خود کش حملہ آور کا آدھا سر ملا ہے جس پر زحم کے نشان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کا خاکہ شناخت کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کون ہیں انھیں کیون نشانہ بنایا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی یہیں کوشش ہے کہ حالات خراب کیے جائیں لیکن اب لوگ جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ کوہاٹ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں شیعہ اور سنی دونوں مسلک کے لوگ شامل ہیں۔