چینی وزیرِ اعظم کی پاکستان آمد

چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ بھارت کے تین روزہ دورے کے بعد جمعہ کودوپہر کے وقت پاکستان کے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔فوجی ہوائی اڈے چکلالہ ائیر بیس پر چینی مہمان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی، کابینہ کے اراکین اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے چینی وزیر اعظم کا استقبال کیا۔
ہوائی اڈے پر چینی وزیر اعظم کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ چینی وزیر اعظم کے ہمراہ ڈھائی سو تاجر بھی ہیں۔
پاکستان کے خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق چینی وزیراعظم کی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان باضابطہ بات چیت جمعہ کو ہوگی جس میں اہم نکتہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات ہوں گے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد دونوں رہنما معیشت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں بیس معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کریں گے۔
وین جیا باؤ انیس دسمبر کو پاکستان کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وہ پہلے چینی وزیراعظم ہوں گے جو پاکستان کی پارلیمان سے خطاب کریں گے۔
وہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سی دی جانے والی ضیافت میں شرکت کرنے کے علاوہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں میاں نواز شریف، چوہدری شجاعت حسین، فضل الرحمٰن، آفتاب شیرپاؤ، فاروق ستار اور دیگر کے علاوہ فوجی سربراہان سے ملاقات بھی کریں گے۔
چین کی مختلف کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں ایک سو بیس کے قریب منصوبوں پر کام کر رہی ہیں جس میں بیشتر توانائی سے متعلق ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان چین کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے جبکہ پاکستان کے لیے چین دنیا کی پانچویں بڑی برآمدات کی منڈی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی حکام کے مطابق چین کے ساتھ رواں سال کے ابتدائی نو ماہ میں گزشتہ برس کے اس عرصے کی نسبت دو طرفہ تجارت میں انتیس فیصد اضافہ ہوا اور اب یہ سوا چھ ارب ڈالر ہوچکی ہے۔
چین میں پاکستانی سفیر مسعود خان کے مطابق سال کے آخر میں دو طرفہ تجارت سات ارب ڈالر ہوجائے گی۔ ان کے مطابق اس سال پاکستان کے چھ ہزار طلبا چین کی یونیورسٹیوں سے گریجوئیشن کر رہے ہیں جبکہ ان کا ٹارگٹ بیس ہزار طلباء کا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس تناسب سے دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوتا رہا تو آئندہ پانچ برس میں اس کا حجم اٹھارہ ارب ڈالر ہوسکتا ہے اور چینی وزیراعظم کے دورے میں دونوں ممالک دو طرفہ تجارت بڑھانے کے لیے پانچ سالہ بلیو پرنٹ بھی طے کریں گے۔
چینی وزیراعظم کے ہمراہ آنے والے تقریبا ڈھائی سو کاروباری افراد کا وفد بھی آرہا ہے اور امید ہے کہ ان کے دورے میں سیکورٹی، تجارت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہوں گے۔
پاکستان اور چین کے درمیاں آزادانہ تجارت کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکا ہے لیکن اب دونوں ممالک ’ٹیکس فری ٹریڈ ایگریمینٹ‘ پر بات چیت کر رہے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان کی سب سے بڑی کوشش سیلاب کے بعد تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی میں چین سے مالی اور فنی تعاون حاصل کرنا ہوگا۔
چین کے وزیراعظم بھارت کے دورے کے بعد پاکستان آ رہے ہیں اور پاکستان کی توقعات ہیں کہ چین بھارت سے زیادہ پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔ بھارتی دورے میں چینی وزیراعظم کے ہمراہ چار سو کاروباری افراد کا وفد تھا اور سولہ ارب ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔
چین اور بھارت کے تعلقات میں پاکستان کی نسبت سرد مہری کے باوجود بھی ان دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت کا حجم ساٹھ ارب ڈالر ہے۔ چین نے بھارت کے ساتھ سولہ ارب ڈالر کے تجارتی تعاون کے جو معاہدے کیے ہیں وہ سٹیل، ونڈ انرجی، خوراک اور سمندری پیداور کے شعبے شامل ہیں۔
بھارت چین سے فارماسٹیکل اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعاون چاہتا ہے لیکن تاحال اس بارے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اسلام آباد نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق دیکھنا یہ ہوگا کہ چینی وزیراعظم وین جیا باؤ بھارت کی نسبت پاکستان کے لیے کیا ایسی نئی مراعات اور ترجیحات کا اعلان کرتے ہیں جس سے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات کی نمایاں حیثیت کی جھلک نظر آتی ہو۔
کیونکہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر براک اوباما، جرمن چانسلر اینگلا مرکل اور فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی ہندوستان کا دورہ کر چکے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کا اعلان کرچکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔



















