’ زرداری کے کہنے پر پوسٹمارٹم نہیں ہوا‘

موقف جاننے کے لیے صدارتی ترجمان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُن کا موقف نہیں مل سکا
،تصویر کا کیپشنموقف جاننے کے لیے صدارتی ترجمان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُن کا موقف نہیں مل سکا
وقت اشاعت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سابق سٹی پولیس افسر ڈی آئی جی سعود عزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا تھا۔

سعود عزیز اور ایس پی خُرم شہزاد بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں ان دنوں عبوری ضمانت پر ہیں۔

سنیچر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بینظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوان ڈی آئی جی سعود عزیزکے وکیل نے عدالت میں وہ خطوط بھی پیش کیے جو اُن کے موکل نے ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات کو جس روز ینظیر بھٹو کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا، ہوم سیکرٹری پنجاب کو لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ صوبہ سندھ کے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ وہ بینظیر بھٹو کے ورثاء سے رابطہ کر کے پوسٹ مارٹم سے متعلق ہدایات لیں۔

سعود عزیز کے وکیل نے صوبہ سندھ کے ہوم سیکرٹری کا خط بھی پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اُنہوں نے (سندھ حکومت ) آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے اور بقول اس خط کے بینظیر بھٹو کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ اپنی بیوی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔

سابق سی سی پی او راولپنڈی کے وکیل ملک رفیق نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل نے اس خط کو مدنظر رکھتے ہوئے بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے ایوان صدر کا موقف جاننے کے لیے صدارتی ترجمان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُن کا موقف نہیں مل سکا۔

سعود عزیز پر الزام ہے کہ نہ تو اُنہوں نے سابق وزیر اعظم کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا بلکہ اُنہوں نے بینظیر بھٹو کی سکیورٹی پر تعینات اے اس اشفاق انور کو کہیں دوسری جگہ بھیج دیا اس کے علاوہ اُنہوں نے جائے حادثہ کو بھی دھونے کے احکامات جاری کیے تھے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کی ٹیم نے سعود عزیز کو سکیورٹی میں خامیوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

راولپنڈی جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر مصدق نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو بیان دیا تھا کہ اُنہوں نے سعود عزیز کے کہنے بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے اُن کے موکلوں کو کالم نمر دو میں رکھا ہے جو اس ات کا ثبوت ہے کہ اُن کے موکل بینظیر بھٹو کے قتل میں کسی قسم کی سازش میں ملوث نہیں ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ جو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے اُن کا بھی پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تھا تو کیا یہ سمجھا جائے کہ اُس کی شہر کی انتظامیہ اور پولیس کے اعلی حکام نے اُن کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا۔

بینظیر بھٹو قتل کے دوسرے ملزم ایس ایس پی خُرم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور سعود عزیز اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے پاس شامل تفتیش ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی بنایا گیا ہے اور کچھ لوگ سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

وکیل استغاثہ چوہدری ذوالفقار احمد نے ان پولیس افسران کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس روز بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا اُس وقت کے سی سی پی او راولپنڈی مسلسل موبائل فون پر گھنٹوں تک کسی سے بات کرتے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سعود عزیز نے اپنے موبائل کا ریکارڈ ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اے اس پی اشفاق انور کا عدالت میں دیا جانے والہ بیان انہیں ینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملوث کرنے کے لیے کافی ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی سعود عزیز نے وقوعہ کے روز اُنہیں جانتے ہوئے بھی کہ وہ بینظیر بھٹو کے سکیورٹی پر تعینات ہیں کہیں اور جگہ بھیج دیا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت بائیس دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔