سیلاب متاثرین کی مشکلات جوں کی توں

صوبہ بلوچستان میں اکسٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو اب تک چھت میسر نہیں
،تصویر کا کیپشنصوبہ بلوچستان میں اکسٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو اب تک چھت میسر نہیں
    • مصنف, مدثر حسین
    • عہدہ, بی بی سی لائف لائن، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان میں آئے سیلاب کو چار ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن متاثرین سیلاب کی مشکلات جوں کی توں ہیں۔ حکومت اور ملکی و غیر ملکی امدادی ادارے سیلاب زدگان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی سی کوششیں تو کر رہے ہیں۔ لیکن بڑے پیمانے پر پھیلنے والی اس تباہی کے اثرات ابھی باقی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق رہائش، صحت اور خوراک کی فراہمی میں کمی کے شکار افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف صوبہ بلوچستان میں اکسٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو اب تک چھت میسر نہیں۔

عالمی ادارہ برائے پناہ گزین کے ترجمان سلیم رحمت نے سیلاب زدگان کی رہنمائی کے لیے بی بی سی کے خصوصی پروگرام لائف لائن پاکستان کے لیے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک بھر میں اب تک لگ بھگ سات لاکھ متاثرہ خاندانوں کو عارضی رہائش کی سہولتیں دی جا چکی ہیں جب کہ ابھی ایسے مزید سولہ لاکھ خاندان باقی ہیں جنہیں سردیوں سے محفوظ رکھنے والے خیمے اور شیلٹر فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری تنظیمیں تو صرف عارضی پناہ گاہیں ہی فراہم کر سکتی ہیں، مستقل رہائش فراہم کرنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فنڈز کی بھرپور اور بروقت فراہمی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ’جو فنڈز اب تک ملے ہیں وہ متاثرین کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیلاب زدگان کے لیے کام برائے خوراک اور کام برائے اجرت کے منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے جن کے تحت متاثرین سیلاب خود اپنے گھروں کی تعمیر کے معاوضے کے طور پر خوراک یا نقد رقم وصول کر سکیں گے۔‘

دوسری جانب صحت کی صورت حال بھی ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آسکی اور عالمی ادارہ صحت کی ترجمان گل آفریدی کے مطابق مختلف امدادی کیمپوں اور سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کی سہولتیں نہ ملنے سے اب تک پینتالیس افراداپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ان میں سولہ متاثرین سیلاب خسرہ، بارہ خناق اور سترہ نے ٹیٹنس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں پولیو کے چونسٹھ مریضوں کا اندراج بھی کیا گیا ہے، جن میں حیرت انگیز طور پر کراچی کے امدادی کیمپوں سے بھی دو کیسز سامنے آئے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن یو کے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر پاکستان میں ہر سال پچاسی ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتے ہیں لیکن اس سال سیلاب کی وجہ سے سردیوں کے دوران سیلاب زدہ علاقوں خاص طور پر ملک کے شمالی حصوں میں یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں خیموں کے علاوہ گرم کپڑوں اور خوراک کی شدید قلت ہے۔تنظیم کے پاکستان میں سربراہ محمد قزلباش نے بی بی سی لائف لائن پاکستان کو انٹرویودیتے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ ہر متاثرہ شخص تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔

عالمی ادارہ صحت کی گل آفریدی نے بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیوں کی تفصیل بتاتے کہا کہ برفانی علاقوں کے سیلاب زدگان کے لیے بڑی مقدار میں ادویات متعلقہ مراکز صحت تک پہنچا دی گئی ہیں جو ان کی ضرورت کے حساب سے چھے ماہ کے لیے کافی ہیں۔

ادھرخریف کی فصل کی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی قلت بھی ابھی تک ختم نہیں کی جا سکی۔عالمی ادارہ خوراک کے ترجمان امجد جمال کے مطابق سردی میں برف باری کے باعث ملک کے دوسرے علاقوں سے کٹ جانے والے شمالی اضلاع اور صوبہ سندھ کے ایسے علاقے جہاں اب بھی سیلابی پانی موجود ہے، خوراک کی کمی کا بڑاشکار ہیں۔ صوبہ سندھ میں تو خوراک کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے حاملہ خواتین اور بچوں کو غذائیت کی کمی کابھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو کھاد اور بیج کے علاوہ ہر ماہ کا راشن بھی دیا جا رہا ہے تاکہ وہاں خوراک کی کمی محسوس نہ ہو۔ اس کے علاوہ جن علاقوں تک رسائی کا سلسلہ ٹوٹ جانے کا خدشہ ہے وہاں پہلے ہی کئی ماہ کے لیے خوراک کا ذخیرہ جمع کر لیا گیا ہے۔