’چار دن کے اندر زندگی کا فیصلہ‘

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں محسود قبائلی کے لاپتہ ہونے والے تئیس افراد کے اغواء کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔ یہ افراد دو ہفتے پہلے رزمک سے لاپتہ ہوگئے تھے۔
اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تحصیل رزمک میں جنوبی وزیرستان آپریشن سے متاثر ہونے والے محسود قبائلی کا ایک تئیس رُکنی وفد طالبان سے ملنے کے لیے ایک پہاڑی علاقے میں گیا تھا جو واپس نہیں پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ وفد میں شامل تمام افراد کا تعلق محسود قبائل سے ہے۔
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بتایا کہ محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے تئیس افراد طالبان کی ایک جیل میں قید ہیں، جن پر طالبان کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار دن کے اندر اندر اُن کی موت اور زندگی کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ چھ قاضیوں پر مشتمل ایک اسلامی بینچ نے گزشتہ دو ہفتوں سے اُن سے تفتیش کی ہے اور اب قاضیوں کے فیصلے کے بعد اُن کو سزا دی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق حکومت کے حامی اور اس طرح کے جُرم کرنے والے لوگ طالبان کی عدالت سے نہیں بچ سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی جیل میں قید تمام افرادچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی کے جنوبی وزیرستان کے دورے کے موقع پر مکین گئے تھے۔
اس سے پہلے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں مقامی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ طالبان جنگجو، لاپتہ ہونے والے افراد پر یہ الزام لگا رہے تھےکہ جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی جنوبی وزیرستان کے دورے پر آئے تھے تو یہ لوگ جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین میں ایک سکول کے افتتاح کے موقع پر وہاں گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک اور جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین ایک دوسرے سے جُڑے ہوئی ہیں جہاں سکیورٹی فورسز کی اکثر چوکیوں پر حملے بھی انھی علاقوں سے کیے جاتے ہیں۔



















