دہشتگردی میں کمی ہوئی تو قدرتی آفات نے گھر دیکھ لیا: تصاویر
،تصویر کا کیپشن 2010 میں پاکستان میں گزشتہ برس کی نسبت خودکش حملوں سمیت دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا رجحان رہا۔ زیرِ نظر تصویر میں مانسہرہ میں ایک سکیورٹی اہلکار حملہ کرنے سے قبل ہی ہلاک کر دیے جانے والے خودکش حملہ آور کے جسم سے ڈیٹونیٹر الگ کر رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسال کے آغاز پر پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں پہاڑ کے کھسکنے سے دریائے ہنزہ کا پاٹ بند ہوگیا اور اس دریا نے آنے والے چند ماہ میں کئی کلومیٹر طویل جھیل کی شکل اختیار کر لی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔
،تصویر کا کیپشناپریل میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس رپورٹ کو نامکمل قرار دیا
،تصویر کا کیپشنرواں سال پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے پر پاکستان میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر پابندی بھی لگائی گئی اور اس مقابلے کے خلاف پاکستان بھر میں مذہبی جماعتوں نے مظاہرے بھی کیے
،تصویر کا کیپشنمون سون کا موسم اس مرتبہ پاکستانی عوام کے لیے تاریخ کے بدترین سیلاب کا پیغام لایا۔ اس سیلاب کا زور قریباً تین ماہ میں ٹوٹا اور اس سے ملک کے چاروں صوبوں میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
،تصویر کا کیپشناتنی بڑی قدرتی آفت سے تنہا نمٹنا پاکستانی حکومت کے بس میں نہ تھا چنانچہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی امدادی اپیل جاری کی گئی۔ اس اپیل پر ابتداء میں تو عالمی ردعمل سست رہا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امداد پاکستان پہنچنے لگی۔
،تصویر کا کیپشندو ہزار دس میں پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا اور کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقے اس کا مرکز رہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا اور سات سو گیارہ افراد سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کیے گئے جبکہ بلوچستان میں کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں سے آئے روز ٹارگٹ کلنگ کی خبریں آتی رہیں
،تصویر کا کیپشنرواں برس دہشتگردوں نے ملک کے مرکزی شہروں میں واقع صوفی بزرگانِ دین کے مزاروں کو نشانے پر لیے رکھا۔ اس سلسلے کا آغاز لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر خودکش حملے سے ہوا جس کے بعد دہشتگردوں نے پاک پتن میں خواجہ فرید گنج شکر کی درگاہ کو نشانہ بنایا اور سال کی آخری سہ ماہی میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کا مزار حملے کا نشانہ بنا۔
،تصویر کا کیپشنجولائی میں دارالحکومت اسلام آباد میں جانی نقصان کے لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کا بدترین فضائی حادثہ اس وقت پیش آیا جب نجی فضائی کمپنی ائر بلیو کا مسافر طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں 152 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشندو ہزار دس میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے سامانِ رسد لے جانے والے آئل ٹینکرز اور کنٹینرر شدت پسندوں کے حملوں کا باقاعدگی سے نشانہ بنتے رہے اور پہلی بار ان حملوں کا دائرہ صوبہ سندھ تک پھیل گیا۔ ان حملوں سے جہاں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا وہیں درجنوں افراد کو جانوں سے ہاتھ بھی دھونا پڑے
،تصویر کا کیپشن2010 میں نہ صرف پاکستان میں ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا بلکہ ان کا دائرہ کار بھی وسیع ہوگیا۔ ان حملوں میں شدت کا تعلق یورپ میں القاعدہ کے حملوں کی منصوبہ بندی سے جوڑا گیا۔رواں برس ان حملوں کے خلاف پاکستانی شہروں کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقے سے بھی پہلی مرتبہ آواز بلند ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنحکومتِ پاکستان نے ملک کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع بھی کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی سیاسی حکومت نے فوج کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی ہو۔ وزیراعظم نے اس توسیع کو وقت کی ضرورت قرار دیا جبکہ مبصرین کے خیال میں یہ ایک غیر معمولی فیصلہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنسال کی آخری سہ ماہی میں توہینِ رسالت کے قانون کا معاملہ ایک مرتبہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب ایک عدالت نے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار آسیہ نامی ایک خاتون کو اس الزام کے تحت سزائے موت سنا دی۔ اس سزا کے خلاف جہاں مسیحی تنظیموں نے احتجاج کیا وہیں مذہبی تنظیمیں یہ کہہ کر میدان میں اتر آئیں کہ حکومت آسیہ کو معاف کرنے اور اس قانون کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وہ اجازت نہیں دے سکتے
،تصویر کا کیپشنسال کے آخر میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے دوران پاکستانی حجاج کو پیش آنے والی مشکلات سے شروع ہونے والی کہانی نے ایک بڑے سکینڈل کو جنم دیا اور اس سارے معاملے پر سپریم کورٹ میں مقدمہ اب بھی جاری ہے۔ یہی وہ سکینڈل تھا جو پاکستانی کابینہ سے وزیرِ مذہبی امور اور وزیرِ سائنس کے اخراج کا باعث بنا۔
،تصویر کا کیپشندو ہزار دس تو اب اپنے اختتام پر ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والا سال مسائل کا شکار پاکستانی عوام کے لیے کوئی بہتر خبر لاتا ہے یا نہیں۔