’ قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں سُقم کی وجہ سے دہشت گرد عدالتوں سے ضمانت کروا لیتے ہیں اور اپنی سرگرمیاں پھر سے شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے جمعےکو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی خان کے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ بلوچستان میں قوم پرست اور خیبر پختونخواہ میں طالبان شدت پسندوں کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کر کے قتل کرنے کے متعلق امریکی کانگریس تو نوٹس لیتی ہے لیکن پاکستانی حکومت کچھ نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ سابق فوجی دورِ حکومت اور موجودہ جمہوری حکومت میں فرق ہونا چاہیے اور ماضی کی پالیسی ختم کرنی چاہیے کیونکہ اس سے پاکستان کے اداروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمان کو انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کر کے انہیں سخت بنانا چاہیے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ رعایت نہیں کرنی چاہیے۔
بعد میں وزیراعظم نے وضاحت کی وہ دہشت گردوں کی عدالتوں سے ضمانت پر رہائی کے معاملے کا الزام عدلیہ کو نہیں دیتے بلکہ پارلیمنٹ سے کہتے ہیں کہ وہ قوانین سخت بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام برداشت کا درس دیتا ہے لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ امریکی اخبارات میں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبر آئی ہے اس بارے میں ان سے غیر ملکی وفود نے بات کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے ایم کیو ایم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تنقید اور گالیوں میں فرق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو بھی گالیاں نشر نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمان کی جانچ کمیٹی بنائی جائے اور اس میں صحافیوں کو بھی شامل کیا جائے جو یہ معلوم کریں کہ پہلے کس نےگالیاں دی تھیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے وسیم اختر نے کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہ الطاف حسین کی بیگم کا ذکر چوہدری نثار علی خان نے کیا اور شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہیں مارنے چاہیں۔
انہوں نے چوہدری نثار کو مخاطب کر کے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کا ایجنڈا کیا ہے اور وہ کیوں تمام جماعتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز بیانات نہ دیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا کہ دوستوں نے جو ایک دوسرے کو برا بھلا کہا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے فریقین سے درخواست کی کہ وہ آئندہ ایسی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔



















