جنوبی وزیرستان کے یرغمالی رہا

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنطالبان کے اغوا کرنے کی وجہ فوجی سربراہ کے پروگرم میں شرکت تھی۔
وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک ہفتہ قبل بیت اللہ گروپ کے طالبان کی طرف سے یرغمال بنائےگئے محسود قبیلے کے تئیس افراد کے ایک وفد کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

ان افراد کو اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا جب نقل مکانی کی غرض سے وہ دوسرے مقام کی طرف جارہے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے جب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی جنوبی وزیرستان کے دورہ پر تھے تو اس وفد نے ان کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وفد کو طالبان کے شرعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے بتایا کہ حکومتی اہلکار انھیں راشن فراہم کرنے کے بہانے جنوبی وزیرستان لے گئے تھے لیکن بعد میں انہیں پتہ چلا کہ انہیں اس پروگرام میں لے جایا گیا تھا جہاں فوج کے سربراہ خطاب کرنے والے تھے۔

ترجمان کے مطابق وفد کے ارکان کو سزا دیے بغیراس لیے آزاد کردیاگیا کیونکہ ان کے ساتھ حکومتی اہلکاروں کی طرف سے دھوکہ کیا گیا تھا۔

بیت اللہ گروپ کے طالبان نےگزشتہ ہفتے ایک تئیس رکنی وفد کو یرغمال بنایا تھا۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ فوج کے سربراہ کے دورہ جنوبی وزیرستان کے دوران مکین کے علاقے میں ایک افتتاح کے موقع پر وہاں موجود تھے۔ وفد کے ارکان طالبان سے ملاقات کےلیے خود ایک پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔