2010: حکومت اور عدلیہ کے لیے مشکل سال

سپریم کورٹ بلڈنگ فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے از خود نوٹس کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان میں گزشتہ سال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے بعدسال سنہ دوہزار دس میں عدلیہ ماضی سے زیادہ متحرک، موثر اور قانونی ماہرین کے مطابق بعض اوقات متنازعہ بھی دکھائی دی۔

اعلیٰ عدلیہ کے متحرک ہونے کا سب سے بڑا ثبوت گُزشتہ سال سب سے زیادہ از خود نوٹس کے تحت مقدمات کی سماعت ہے۔

ان میں چینی کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامی مسئلے سے لے کر خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کو نوٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکشن واپس لینے کی افواہوں پر سترہ رکنی بینچ کا ہنگامی اجلاس شامل ہے۔

صدر آصف علی زرداری فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنصدر زردرای کے خلاف سوئس مقدمات کو دوبارہ کھولنے کےحوالے سے حکومت نے اب تک لیت و لعل سے کام لیا ہے

سال دو ہزار دس کے دوران حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ رہے۔ دونوں ایک دوسرے کے عزائم سے خائف اور بداعتمادی کا شکار رہے۔

سنہ دو ہزار دس کا عدلیہ کا سب سے بڑا فیصلہ جس سے موجودہ حکومت ’دفاعی موڈ‘ میں چلی گئی وہ کالعدم قرار دیے جانے والا قومی مصالحتی آرڈیننس پر عمل درآمد کا معاملہ تھا۔

فیصلے کے مطابق اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف دوبارہ مقدمات کھولے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وزیرِداخلہ رحمان ملک سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمات اُس پوزیش پر بحال کردیے جو پانچ اکتوبر سنہ دوہزار سات کو اس آرڈیننس کے جاری ہونے سے پہلے کی حالت میں تھے۔

تاہم عدالتی فیصلے کے برعکس صدر آصف علی زردرای کے خلاف سوئس مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے حکومت نے اب تک لیت و لعل سے کام لیا ہے۔

وزیرِ اعظم گیلانی فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسال دو ہزار دس کے دوران حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ رہے

عدالت کے بار بار اصرار کے باوجود حکومت نے سوئس حکام کو کوئی خط نہیں لکھا۔حکومت کا موقف ہے کہ صدر کو آئین میں استثنیٰ حاصل ہے اور اُن کے خلاف اندرونِ اور بیرونِ ملک مقدمات نہیں کھولے جاسکتے۔

حکومت نے این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اور اس درخواست کی پیروری سابق سینیٹر سردار لطیف کھوسہ کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میںدائر ایک اور مقدمہ بھی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنا۔ یہ مقدمہ وزیرِاعظم کی طرف سے گریڈ اکیس سے بائیس میں ترقی پانے والے باون افسران کی ترقی کے احکامات کو واپس لینے اور سرکاری افسران کی پروموشن سے متعلق قوائد ضوابط بنانے کا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر اُن افسران سے وہ پلاٹ بھی واپس لے لیے گئے جو اُنہیں اگلے گریڈ میں ترقی کے بعد الاٹ کیے گئے تھے۔

بینک آف پنجاب کے نو راب روپے کے قرضے کے سکینڈل میں بھی سپریم کورٹ نے مداخلت کرکے اُس وقت کے بینک کے چیئرمین ہمیش خان کو امریکہ سے بُلوایا۔

 فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناین آو او کے خلاف بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا

بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی مداخلت کی وجہ سے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے سات ارب روپے سے زائد کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاچکی ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کا بھی نوٹس لیا اور ایک مقدمے میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے نوڈیرہ اور گُڈو میں کرائے کی بجلی گھر لگانے کے لیے پیشگی ادا کی گئی دو ارب روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی۔

سپریم کورٹ نے محتلف بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے سے متعلق بھی بڑی کمپنیوں کے بااثر افراد سے کہا ہے کہ وہ ان بینکوں کے متعقلہ افسران کے ساتھ مل کر اپنے قرضے ریشیڈول کروائیں۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنلاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ بھی گزشتہ برس نمایاں رہا

سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت بھی جاری رہی اور اُن افراد کی بازیابی کے لیے وزارتِ داخلہ میں ایک کمیشن بھی بنایا گیا تاہم لاپتہ ہونے والے افراد کے عزیزواقارب اس کمیشن کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔

لاپتہ افراد کے مقدمے میں تو سپریم کورٹ بظاہر غیرموثر دکھائی دی لیکن پہلی مرتبہ اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدیوں کی نشاندہی میں کامیاب رہی۔

پہلے تو خفیہ ایجسنی کے اہلکار اُن افراد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے رہے پھر جب سپریم کورٹ نے فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے سربراہوں کو نوٹسز جاری کیے تو چند روز بعد ہی خفیہ ایجنسیوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ افراد اُن کی تحویل میں ہیں۔ تاہم ان ایجنسیوں کے وکیل نے کہا کہ یہ افراد اُن مقدمات میں مطلوب ہیں جو فوج کے اداروں پر حملوں کے حوالے سے درج کیے گئے۔

سال دو ہزار دس کا ایک اور اہم مقدمہ سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمان کی ترمیم پر غور کے بعد اسے جزوی طور پر دوبارہ جائزے کے لیے ایوان کو واپس بھیجنا تھا۔

سپریم کورٹ کی ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے دی جانے والی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے اُنیسویں ترمیم قومی اسمبلی سے منظور کروالی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا سپریم کورٹ کو یہ مکمل طور پر قابلِ قبول ہوگی یا نہیں۔ اس مقدمے کی سماعت اب جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہونا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان تعلقات اُس وقت انتہائی تلخ ہوگئے جب سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبروں پر کہ حکومت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کی بحالی کا اعلامیہ واپس لینا چاہتی ہے رات گئے از حودنوٹس لے لیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سترہ جج اکھٹے ہوئے اور حکمِ امتاعی جاری کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ ججوں کی برطرفی کا طریقہ کار آْئین میں موجود ہے اور اُنہیں اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ وزیرِاعظم کی جانب سے تحریری تردید سے بھی عدالت کی تشفی نہیں ہوئی تاہم حکومتی یقین دہانیوں کے بعد یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔

سنہ دوہزار دس میں حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیرِسماعت آیا اور اس سکینڈل کی وجہ سے دو وفاقی وزراء حامد سعید کاظمی اور اعظم سواتی کو اپنی وزارتوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور اس سکینڈل کی وجہ سے جمیت علمائے اسلام حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی۔