عدلیہ کے حکم پر پہلی آئینی ترمیم

انیسویں آئینی ترمیم ملکی تاریخ میں پہلی ترمیم ہے جو عدلیہ کے ایک عبوری حکم کی روشی میں کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنانیسویں آئینی ترمیم ملکی تاریخ میں پہلی ترمیم ہے جو عدلیہ کے ایک عبوری حکم کی روشی میں کی گئی ہے
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں عدلیہ کی طرف سے فوجی حکمرانوں کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دینے کی نظیر تو موجود ہے لیکن جمہوری حکومت کی طرف سے عدلیہ کے حکم پر آئین میں ترمیم کرنا اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔

اعلیْ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں انیسویں آئینی ترمیم ملکی تاریخ میں پہلی ترمیم ہے جو عدلیہ کے ایک عبوری حکم کی روشنی میں پاکستانی آئین کا حصہ بنی ہے۔

یہ ترمیم ملک کی اعلیْ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کے بارے میں ہے۔

انیسویں ترمیم کی منظوری سے چند ماہ پہلے پارلیمان نے اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کی تھی اور اس ترمیم کی دیگر شقوں کے علاوہ اعلیْ عدلیہ کے ججوں کے تقرر کے بارے میں بھی ایک شق شامل تھی جس کے ذریعے اعلیْ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا۔

نئے طریقہ کار کے تحت ججوں کی تقرری جوڈیشل اور پارلیمانی کمیشن کی منظوری سے ہوگی۔

ملک کی وکلا تنظیموں نے آٹھارویں ترمیم کو ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار کی حد تک چیلنج کیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں فل بنچ نے اپنے ایک عبوری حکم کے ذریعے ججوں کی تقرری کے طریقے پر نظرثانی کرنے کا کہا تھا۔

انیسویں ترمیم کے آئین کا حصہ بننے کے بعد عدلیہ کے بارے میں آئین میں کی جانے والی ترامیم کی کل تعداد پانچ ہوگئی ہے اور یہ تمام ترامیم پیپلز پارٹی کے ہی دو مختلف ادوار میں آئین میں شامل کی گئیں ہیں۔

آئین میں عدلیہ کے بارے میں پہلی مرتبہ ترمیم اس وقت کی گئئ جب پارلیمان نے چوتھی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کے اختیارات کو کم کیا۔

پانچویں ترمیم میں دوسری مرتبہ عدلیہ کے بارے میں ترمیم کی گئی اور پانچویں ترمیم میں جہاں سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کو الگ الگ کیاگیا وہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس چیف جسٹسز کے عہدے کے لیے پانچ اور چار سال کی معیاد مقرر کی گئی۔

چھٹی ترمیم کے ذریعے ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کے منصب کی معیاد میں رد و بدل کیا گیا اور اس ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی معیاد کو اس طرح بڑھایا گیا کہ اگر کسی چیف جسٹس کے عہدے کی مقررہ معیاد پوری نہیں ہوتی اور وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو اس وقت تک بطور چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کریں گے جب تک ان کے عہدے کی معیاد پوری نہیں ہو جاتی۔

اس ترمیم سے چیف جسٹس یعقوب علی خان کو فائدہ ہوا جنہیں چیف جسٹس بنے لگ بھگ دو سال ہوئے تھے اور وہ ریٹارمنٹ کی عمر کو پہنچ گئے تھے۔ جسٹس یعقوب علی خان ذوالفقارعلی بھٹو کے خاصے قریب سمجھے جاتے تھے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے بھی عدلیہ کے ججوں کے بارے میں ایک ترمیم کرنے کی کوشش کی تھی اور ملک میں دو ہزار دو کے عام انتخابات سے پہلے جاری ہونے والے لیگل فریم ورک آرڈر یعنی ایل ایف او کے تحت آئین میں ترامیم کیں اور انہیں ترامیم میں ایک شق کے ذریعے اعلیْ عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔

تاہم جب پارلیمان نے ایل ایف او کو تحفظ دینے کے لیے سترویں ترمیم منظور کی تو اس میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی شق کو خارج کردیا اور ججوں کی ریٹائرمنٹ کے سابقہ عمر بحال ہوگئی۔