محافظوں کی جانچ پڑتال کا حکم

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی اپنی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار کے ہاتھ قتل کے بعد اعلیٰ شخصیات کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ متعین کیے جانے والے اہلکاروں کی دوبارہ سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
پنجاب پولیس کے حکام کے مطابق گورنر پنجاب کے قتل کے واقعہ کے بعد اعلیٰ شحصیات کے ساتھ سکیورٹی کی ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کی مرحلہ وار جانچ پڑتال کی جائے گی۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں صرف تین ہزار کے قریب پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکار اعلی شخصیات کی حفاظت کے لیے فرائض انجام دیتے ہیں جن میں اعلیْ شخصیات کے ساتھ قافلے کی شکل میں سفر کرنے والے اہلکاروں کے علاوہ پولیس کے وہ اہلکار بھی شامل ہیں جو وی آئی پی شخصیات کے راستے پر مامور ہوتے ہیں۔
پنجاب پولیس کے ایس پی وی وی آئی پیز ڈاکٹر حیدر اشرف کے بقول تمام اہلکاروں کی فوری طور پر جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی یہ عمل مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کہ پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ اہم اور حساس شخصیات کے ساتھ معتین اہلکاروں کی جانچ پڑتال ہوگی اور اس طرح مرحلہ وار دیگر شخصیات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی دوبارہ جانچ پڑتال کا عمل ایک آدھ دن میں مکمل نہیں کیا جاسکتے بلکہ اس عمل کی تکمیل میں ایک سے دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ شخصیات کی حفاظت کے لیے جن اہلکاروں کو متعین کیا جاتا ہے ان کی باقاعدہ سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاہم گورنرپنجاب کے قتل کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی دوبارہ جانچ پڑتال کا مقصد خامیوں جائزہ لینا اور ان کو دور کرنا ہے۔
ایس پی وی وی آیی پیز حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ ایک واقعہ کسی اہل کار کاذاتی فعل ہوسکتا ہے اور اس کی بنا پر تمام اہلکاروں کی وفا داری پر شک نہیں کیا جاسکتا۔
مبصرین کی رائے ہے کہ سکیورٹی کے معاملات میں بار بار جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجزیہ نگار ڈاکٹر رسول بخش ریئس کا کہنا ہے کہ جو اہلکار اعلیٰ شخصیات کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہیں ان کی مسلسل نگرانی اور جانچ پڑتال ہونی چاہئے کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی کے معاملات اس طرح نہیں ہوتے کہ ایک مرتبہ ڈاکٹر کے کہنے پر معائنہ ہوگیا اور دو چار سال بعد یا پھرجب ڈاکٹر نے کہا تو دوبارہ چیک اپ کرالیا۔
انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں دہشت گردی کی فضاء ہو وہاں سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ معمول میں سکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی اور ان کو اعلیْ شخصیت کے ساتھ مامور کرتے وقت ان جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔



















