’بی بی، تاثیر قتل کے محرکات یکساں‘

    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے محرکات یکساں ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فی الوقت وہ سلمان تاثیر کے قتل کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج کی تفصیل نہیں بتاسکتیں لیکن ان کے بقول ‘مسٹر تاثیر کے قتل کے بارے میں اب تک سامنے آنے والے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تاثر جو دیا گیا ہے کہ یہ (صرف) ایک مذہبی جنونی آدمی نے کیا ہے، سراسر غلط ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس قتل کو مذہب کا رنگ دیا گیا ہے حالانکہ اس میں سیاسی عوامل پائے جاتے ہیں۔

اس سوال پر کہ بے نظیر بھٹو اور سلمان تاثیر کے قتل کے محرکات یکساں ہونے سے کیا مراد ہے، ان کا جواب تھا کہ ‘پاکستان میں بہت عرصے سے دائیں بازو کی قوتوں اور جمہوریت پسند لبرل قوتوں کے درمیان مسلسل ایک جنگ اور کشمکش چل رہی ہے اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاست کے بہت سارے ستون دائیں بازو کے عناصر کے عرصہ دراز کے ساتھی رہے ہیں۔ ان کے پاس ریاستی وسائل رہے ہیں اور وہ بے پناہ طاقتور لوگ ہیں اور انہیں کسی طرح سے بھی پیپلز پارٹی بھاتی نہیں ہے اسی لیے پیپلز پارٹی کے لیڈر کو پھانسی پہ چڑھایا جاتا ہے اور اسکے رہنماؤں کو گولیوں سے اڑایا جاتا ہے۔‘

’ان (دائیں بازو کی قوتوں) کے اندر اتنی نفرت ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو جو لبرل جمہوریت پسند قوتوں کی علامت ہے، کو ختم کرنے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد یہ تاثر قائم کیا گیا کہ یہ ایک مذہبی جنونی آدمی نے کیا ہے۔ ’چونکہ اس وقت اچانک یہ واقعہ ہوا تو کوئی واضح تصویر ہمارے سامنے نہیں آرہی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو چیزیں سامنے آنا شروع ہوئیں اور یہ جان کر دکھ ہوا کہ یہ صرف ایک مذہبی جنونی آدمی کا فعل نہیں تھا بلکہ اسکے پیچھے ایک منظم سازش ہے۔‘

’سب سے پہلی بات تو یہ ہوئی کہ اس (قاتل) نے کہا کہ میں نے تین دن پہلے یہ ارادہ کرلیا تھا ان کو قتل کرنے کا۔ سوال یہ ہے کہ اسے کیسے پتہ چلا جبکہ وہ راولپنڈی میں بیٹھا ہوا تھا اور یہ (مسٹر تاثیر) لاہور میں تھے کہ یہ اس دن کو اسلام آباد میں موجود ہوں گے تو یہ لنک اپ کس نے اسے فراہم کیا، کوئی نہ کوئی تو ہوگا۔‘

فوزیہ وہاب نے کہا کہ ‘دوسری بات یہ ہے کہ باقی جتنے لوگ تھے جو ان کی سکیورٹی پر مامور تھے انہوں نے کیوں نہیں ان کو بچایا۔ ’ان کو کیا ہوگیا تھا تو یہ سب چیزیں اگر آپ سامنے رکھیں تو آپ یہی محسوس کریں گے کہ یہ کوئی اتنا سیدھا سادھا معاملہ نہیں ہے اور یہ جان کر تاثر قائم کیا جارہا ہے کہ یہ ایک مذہبی جنوبی شخص کا کیا دھرا ہے۔‘

فوزیہ وہاب نے کہا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنجاب کے ایک ڈی آئی جی نے اس شخص کی اے سی آر میں درج کیا ہے کہ وہ وی وی آئی پیز کی سکیورٹی کے لیے فٹ نہیں ہے۔

’سکیورٹی پہ جو بھی مامور ہوتا ہے ان معاملات میں اس کے پاس یہ لازمی ہے کہ اسکا عزم بالکل واضح ہو، وہ نظم و ضبط والا ہو اور بڑا پرعزم ہو۔ یہ تینوں چیزیں یہاں پر کیوں غائب تھیں اور اسے بھیجنے والوں نے اسکے باوجود اسے اس اہم ذمہ داری پر کیوں بھیجا کہ جب اس نے اپنے نام کے ساتھ قادری لگایا ہوا تھا اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایک خاص مذہبی سوچ رکھنے والے گروہ کی نسبت ہوتا ہے۔ ایسے آدمیوں کو تو بالکل بھی ایسی جگہوں پر نہیں رکھنا چاہیے اور خاص طور پر ان حالات میں جن سے ہم گزر رہے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ ‘بہرحال اس معاملے میں بہت زیادہ غفلتیں نظر آرہے ہیں اور انہیں (قاتل کو) کہیں نہ کہیں سے سرپرستی ملی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں فوزیہ وہاب نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور سلمان تاثیر کے قتل کے واقعات کو منطقی انجام تک پہنچانا ان کی جماعت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ’اور یہ یاد رکھیے کہ ہم ایک ایسے گروہ کا سامنا کررہے ہیں جو پچھلے بیس سالوں میں بے انتہا طاقتور رہا ہے اور وہ اتنا طاقتور بن گیا ہے کہ کوئی ان کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا جو جرآت کرتا ہے ان کے خلاف کھڑا ہونے کی تو اسکو پھر وہ تہس نہس کردیتے ہیں، اسکو صفحہ ہستی سے مٹادیتے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور سلمان تاثیر کے قتل کے مرکزی کرداروں کو سامنے لانا پڑے گا، انہیں کیفر کردار تک پہنچانا پڑے گا اور لوگوں کو بتانا پڑے گا کہ مذہب کے نام پر کیا کیا اس ملک میں ہوتا ہے اور مذہب کے نام پر کس کس طریقے سے لوگوں کی زندگیوں کو اجاڑا جارہا ہے اور یہ جلد ہی آپ کے سامنے آجائے گا۔