گیس لوڈشیڈنگ پر مفادات کونسل اجلاس

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پنجاب میں قدرتی گیس کی فراہمی میں مسلسل تعطل پر مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیْ شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم نے یہ اجلاس پنجاب کے وزیر اعلیْ شہباز شریف کے ساتھ اتوار کو لاہور میں ہونے والی ملاقات کے بعد طلب کیا ہے۔
اس ملاقات میں سیاسی امور کے علاوہ پنجاب کو گیس کی عدم فراہمی پر بات کی گئی ۔
ملاقات کے دوران شہباز شریف نے وزیر اعظم کو صوبے میں قدرتی گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے مسائل کے بارے میں تفصیل سے بتایااور مطالبہ کیا کہ قدرتی گیس کی فراہمی کے مسئلے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کہ ملک کی خوشحالی کے لیے وسیع تر معاشی مفاہمت کی ضرورت ہے اور ان کے بقول سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
ملاقات میں وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے بتایا کہ قدرتی گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے پنجاب میں صنعتی عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بقول ان کے صنعتوں کو گیس نہ ملنے کی وجہ سے بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لاہور سے نامہ نگار عباد الحق کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں قدرتی گیس کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے پنجاب کے صنعتی شہروں میں لوڈ مینجمنٹ کے تحت گیس کی فراہمی معطل ہونے سےتین سے چار روز کے لیے ملیں اور کارخانے بند رہتے ہیں اور اسی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں بے روزگار ہیں جبکہ صوبے کے سی این جی سٹیشن بھی ہفتے میں دو روز کے بند ہوتے ہیں۔
شہباز شریف صوبے میں ہونے والی قدرتی گیس کی عدم فراہمی پر پہلے بھی کئی بار تشویش کا اظہار کرچکے ہیں اور اتوار ہونے والی ملاقات میں وزیر اعلیْ شہباز شریف نے دوبارہ اپنی تشویش کے بارے میں وزیراعظم کو بتایا اور ان سے یہ شکایت بھی کہ کہ وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود پنجاب کو گیس کی فراہمی کے اعلان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعلیْ پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ گیس کی عدم فراہمی کی وجہ پنجاب کی صنعتوں کو ملنے والے ایکسپورٹ آرڈر منسوخ ہورہے ہیں اور کئی صنعتیں بند ہوچکی ہیں بقول ان کے اسی کی وجہ سے صنعت کاروں اور محنت کشوں میں شدید پریشانی پائی جاتی ہے۔



















