ہنگو میں چار ڈکیتوں کی لاشیں برآمد

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنحکام نے لاشوں کو اپنے قبضے می لے لیا ہے
وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو میں پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیت گروہ سے تعلق رکھنے والے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا ہے۔

ہنگو میں پولیس افسر اسلام الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کی صُبح شہر سے دو کلومیٹر دور مغرب کی جانب سرہ دانہ کے علاقے سے چار لاشیں ملی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں انور، فاروق، غازی اور شرابی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر ضلعی ہسپتال ہنگو منتقل کردیا ہے۔

پولیس افسر اسلام الدین نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کا تعلق ہنگو میں سرگرم ایک ڈکیت گروہ ’نبی مُلا‘ سے تھا جو کچھ عرصہ پہلے ان سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چار دن پہلے چاروں اپنے آبائی گاؤں سپین خوری سے لاپتہ ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق لاشوں کے قریب سے اردو زبان میں تحریر ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا تھا کہ یہ چاروں افراد ڈاکوؤں اور اغواء برائے تاواں جیسے حرکتوں میں ملوث تھے۔ خط کے مطابق جو علاقے میں ڈاکوؤں اور اغواء برائے تاوان میں ملوث پائےگئے تو ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔

پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ شُبہ اس بات پر ہے کہ ان کی ہلاکتوں میں نبی مُلا گروپ کے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں اور اس معاملے کی پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

یادرہے کہ ہنگو اورکزئی اور کُرم ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے جہاں پہلے بھی اس طرح واقعات پیش آئے ہیں۔اور گزشتہ روز بھی ایک مُسافر گاڑی میں ایک دھماکے کے نتیجہ میں گیارہ افراد ہلاک جبکہ نو زخمی ہوگئے تھے۔