’ناموسِ رسالت قانون میں ترمیم نہیں ہوگی‘

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ان کی حکومت ناموسِ رسالت کے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کرے گی اور نہ ہی ترمیم کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے منقعد کردہ علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم گیلانی نےکہا کہ وہ ناموسِ رسالت کے قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے حق میں نہیں ہیں مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ انتقام کے طور پر اس قانون کا غلط استعمال ہو
وزیراعظم نے کہا: ’کسی ایک مسئلے پر اگر میں حزبِ اختلاف سے بھی بات کرتا ہوں تو وہ بھی مان جاتے ہیں، عدلیہ سے کہتا ہوں تو وہ بھی مان جاتی ہے۔ آپ تو ہمارے ہی مسلک سے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی میں کوئی ترمیم نہیں ہورہی تو آپ کیوں نہیں مانتے۔ ‘
نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق انہوں نے یہ بات بھی مسترد کر دی کہ ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کےلیے حکومت نے کوئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس حوالے سے نہ تو میں نے کوئی کمیٹی بنائی ہے اور نہ ہی سپیکر صاحبہ نے کوئیت کمیٹی تشکیل دی ہے۔‘
ان کہنا تھا کہ اس قانون کے غلط استعمال سے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ کروڑوں مسلمان دنیا میں رہتے ہیں اور جب پاکستان میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے تو ’آپ کے بھائی بہن اور بچے جو ملک سے باہر ہیں ان کا جینا مشکل ہوتا جاتا ہے‘۔
اس سے پہلے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رواداری انسان دوستی اور انسانیت کا احترام کرنا چاہیے اور اپنے اپنے علاقوں میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکریٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے اس موقع پر کہا کہ آج کے دور میں رواداری کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ مل جل کر ایک سماج میں رہ سکیں اور مذہب کے حوالے سے اختلافات، تصادم اور ٹکراؤ کی صورت اختیار نہ کر سکیں۔

اقلیتوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو بنیادی اور شہری حقوق شمار ہوتے ہیں اور پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اقلیتوں کو غیرمعمولی حقوق حاصل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے ناموسِ رسالت کے قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی سخت مخالفت کی اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اس کمیٹی کو بھی ختم کیا جائے جو اس قانون میں ترمیم کےلیے بنائی گئی ہے۔
رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان کے صدر مولانا عبدالمالک نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ دفعہ دو سو پچانوے سی کو ختم کیا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کےلیے امتِ مسلمہ ہر قسم کی قربانی دینے کےلیے تیار ہے اور رواداری کے نام پر کسی بھی قسم کی ترمیم یا تنسیخ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کانفرنس سے جمیعت اہلِ حدیث پاکستان کے نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر، علامہ ساجد نقوی اور دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔



















