کراچی: گزشتہ سال تین ہزار بچے لاپتہ ہوئے

گزشتہ برس لاپتہ ہونے والے بچوں میں چونتیس فیصد ایسے بچے ہیں جو سکول یا مدرسوں میں زیرتعلیم تھے
،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس لاپتہ ہونے والے بچوں میں چونتیس فیصد ایسے بچے ہیں جو سکول یا مدرسوں میں زیرتعلیم تھے
وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بچوں کے اغوا اور لاپتہ ہونے کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق صرف سال دو ہزار دس کےدوران شہر سے تقریباً تین ہزاز بچے لاپتہ ہوئے ہیں۔

بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم روشنی ہیلپ لائن کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار دس میں جنوری سے لے کر دسمبر تک کراچی کے اٹھارہ اضلاع میں سو کے قریب پولیس سٹیشنز میں تقریباً تین ہزاز نوے بچوں کے والدین نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔

ہماری ساتھی ارم عباسی نے بتایا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان گمشدہ بچوں میں تقریباً ڈھائی ہزار لڑکے جبکہ چھ سو لڑکیاں شامل ہیں۔ ان میں اٹہتر فیصد بچوں کی عمر بارہ سے اٹھارہ سال ہے۔ بیس فیصد ایسے لاپتہ بچے بھی ہیں جن کی عمر بارہ سال سے کم ہے۔

کراچی میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس لاپتہ ہونے والے بچوں میں چونتیس فیصد ایسے بچے ہیں جو سکول یا مدرسوں میں زیرتعلیم تھے۔

تنظیم کے مطابق کراچی کے گلشن آباد، اورنگی ٹاون، بلدیہ ٹاون اور لیاری ٹاون ایسے علاقے ہیں جہاں بچوں کی گمشدگی کے واقعات سب سے زیادہ رونما ہوتے ہیں۔

تنظیم نے نہ صرف تھانوں بلکہ پندرہ مساجد سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا جہاں سے معلوم ہوا کہ دو سو ستر کے قریب مسجدوں میں ہر ماہ میں کم سے کم دو بچوں کے لاپتہ ہونے کے اعلانات کیے گئے ۔اس طرح مساجد کے ذریعے گزشتہ برس چھ ہزار چار سو اسی لاپتہ بچوں کے کیسز سامنے آۓ۔

کراچی میں ان بچوں کو کن مقاصد کے لیے اغوا کیا جاتے ہیں یا پھر وہ کس طرح سے لاپتہ ہوجاتے ہیں یہ جانے کے لیے میں نے رابطہ کیا روشی ہیلپ لائن کے صدر محمد علی سے تو ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر بچے غربت، جسمانی، جنسی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں جس سے تنگ آکر وہ گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ ہونے والے بچوں میں زیارہ تر کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ تنظیم کے مطابق ایسے واقعات میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس افسران اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آگاہی نہیں ہے کہ بچوں کا اغوا یا ان کا لاپتہ ہونا کس طرح سے معاشرے میں برائی کو پھیلا سکتا ہے۔

ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ شہر کی پلیس کا نظام بے ہنگم ہونے کی وجہ سے والدین میں بھی یہ آگاہی نہیں ہے کہ اگر جلد از جلد اپنے بچے کے لاپتہ ہونے کی ایف آیی اد بروقت نہ کٹوائی جاے تو تہ خدشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ ان کا بچہ بھیکاری یا جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان لاپتہ بچوں میں زیادہ توجہ طلب مسئلہ اُن بچوں کا ہے جنہیں بھکاری گروہ اپنے مقاصد کے لیے اٹھا لیتے ہیں تاکہ ان کا نیٹ ورک وسیع ہو سکے۔ محمد علی کے مطابق گروہ کی جانب سے ان بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں معذور کر کے ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔

کراچی کے چند جرائم پیشہ گروہوں بھی بچوں کے اغوا میں ملوث ہیں۔ جو انہیں متعدد جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں یا ان کو محض کچھ رقم کے لیے بیچ دیا جاتا ہے۔ اکثر اغوا ہونے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیاتی کے بعد انہیں قتل کرنے کی واقعات بھی علم میں آئے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک کے سربراہ انیس جیلانی کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کا اغوا ایک بڑا مسئلہ ہے جنہیں اغوا کر کے قابئلی علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔

ان کے مطابق قابیلاًی علاقوں میں ان سے مشتقت ،جنسی زیادتی یا جسم فروشی میں دھلیل دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نچوں کے اغوا کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان نے نہ تو کوئی قوانین بناے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ قائم کیا ہے جہاں بچوں کے خقوق کے لیے لڑا جاے۔

انیس جیلانی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا دوسرا پہلو گھر سے لاپتہ ہونے والے بچوں کا ہے جو جنسی زیادتی یا معاشی مشکلات کا شکار ہو کر گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے لیے غیرسرکاری تنظیمیں ں کو چاہیے کہ وہ ایسی پناہ گاہیں فراہم کریں جہاں غربت یا جنسی زیادتی یا دوسری پریشانیوں میں گھرے بچے اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے رجوع کرسکیں ۔ان کے مطابق میڈیا کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں میں ان کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے اپنا موثرکردارادا کرے۔