’پاکستان کے بارے میں آپ کا خواب‘

فائل فوٹو، فیس بک سروے
،تصویر کا کیپشنبہترین خیالات رکھنے والوں کو آئی پوڈ بطور تحفہ دیا جائے گا
وقت اشاعت

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے پاکستانی عوام سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے بارے میں ان کا’ کیا خواب ہے۔‘

امریکی قونصلیٹ نے ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی امریکہ کے بارے میں خواب کی تقریر کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جس طرح مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ کے لیے خواب دیکھا تھا اسی طرح پاکستانی اپنے ملک کے لیے کیا خواب رکھتے ہیں۔

سفارتخانے نے سروے میں شامل لوگوں کو مارٹن لوتھر کنگ کی تقریر سننے یا دیکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

امریکی قونصلیٹ کراچی اور لاہور کے فیس بک صحفات کے مطابق لوگوں کی جانب سے اپنا قیمتی وقت دینے پر سب سے بہترین خیالات رکھنے والوں کو آئی پوڈ بطور تحفہ دیا جائے گا۔

فیس بک پر کراچی قونصلیٹ کے چار ہزار سات سو سے زائد اور لاہور کے پانچ ہزار سات سو اکیاون ممبران ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پاکستان کے خواب کے بارے میں اکثر رائے دہندگان نے میڈیا کی آزادی اور دوسرے نمبر پر کرپشن کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

اس جائزے میں شامل معراج عالم کہتے ہیں کہ’ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جس کے پاس وسائل اور قابل لوگ موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ بدعنوان سیاست دانوں، کرپٹ سوسائٹی اور نام نہاد انتہا پسندی نے اسے خراب کیا ہے، بطور جذباتی قوم ہم میں قوتِ برداشت کی کمی ہے، اگر لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہوں اور برداشت کا مظاہرہ کریں تو پھر ہی ہمارا مستقبل خوشحال ہو سکتا ہے۔‘

سید ایم علی کا کہنا ہے کہ صرف تعلیم ہی ہمارے ملک کو درست رخ میں لے جاسکتی ہے، اس لیے لوگوں کی تعلیم ہی ان کا واحد خواب ہے۔

انعام اللہ شیخ کا خواب ہے کہ ایک جمہوری، سیکیولر اور آزاد خیال پاکستان، جہاں دوسروں کی رائے کا احترام ہو اور لوگوں کو مساوی مواقع کی فراہمی ہو۔

نیاز احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ’ایسا ملک جہاں نفرت نہیں محبت اور امن ہو، ہمارے سیاسی رہنما بھی ایسے ہی عظیم ہوں جنہوں نے امریکہ کو بنایا سنوارا جو آج دنیا میں سر فہرست ہے۔‘

شہباز خان کا خواب ایک ایسا پاکستان ہے ’جہاں آئی ایس آئی چیف اور صدر پاکستان قوم اور سپریم کورٹ کے سامنے جوابدہ ہوں، ہر مذہب کے لوگ اپنے عقیدے کے مطابق رہ سکیں اور تعلیم مفت ہو۔‘ ایسے ہی کچھ خیالات سروے میں شامل لاکھانی کے ہیں کہ’پاکستان کرپشن فری ہو اور یہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔‘

حیدر فلیم رائیزر کا ایک چھوٹا سا خواب ہے کہ پاکستان کو دنیا بھر کے انجینیئرز کا گھر بنا دیا جائے۔

مظہر اللہ بیگ کا خواب ہے کہ پاکستان بھی دیگر اعتدال پسند ممالک کی طرح محفوظ اور مستحکم ہو۔

ایمو عمران کا خیال ہے کہ اگر کوئی کسی قوم کی آزادی کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو صرف اس کی میڈیا کو دیکھے کہ وہ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کی حمایت کرتے ہیں۔

کامران جاوید خان کی رائے ہے کہ پاکستان بھی امریکہ کی ریاست ہو۔ ان کی اس رائے سے نوید کھوکر متفق ہیں۔

فیس بک پر یہ مقابلہ لاہور قونصلیٹ نے بند کر دیا ہے جب کہ کراچی قونصلیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اسے یکم فروری کو ختم کریں گے۔