پاکستان کے لیے پچیس کروڑ ڈالر قرضہ منظور

عالمی بینک نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کے لیے پچیس کروڑ ڈالر کے قرضےاور ساڑھے تین کروڑ ڈالرکی امداد کی منظوری دی ہے۔
عالمی بینک کے اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر ساڑھے اٹھائیس کروڑ ڈالر کی یہ رقم دہشت گردی اور شدت پسندی سے متاثرہ خاندانوں کی معاشی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔
اس منصوبے کو خیبر پختونخواہ اور فاٹا ایمرجنسی ریکوری پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔
عالمی بینک کے اعلامیے کے مطابق اس امداد کے تحت متعلقہ آبادی کو فوری ریلیف، پاکستان اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں اور فاٹا کی انتظامیہ کی جانب سے شدت پسندی کے جواب میں شروع کیے گیے منصوبوں میں فوری مدد فراہم کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت متاثرین کو نقد امداد کی فراہمی کا طریقہ کار بھی اپنایا جائے گا تاکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونےاور بحران کے بعد مستقبل میں نئے سرے سے زندگی شروع کرنے میں مدد مل سکے۔
عالمی بینک کے پاکستان میں ڈائریکٹر راشد بن مسعود نے کہا کہ ’خیبر پختونخواہ اور فاٹا کو شدت پسندی کے مسلسل بحران سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور یہ قرضہ اور امداد عالمی بینک اور اس کے شراکت داروں کی اُس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد متاثرہ علاقوں کے غریب اور متاثرہ خاندانوں کی مدد اور بحالی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔‘
بینک کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد تعمیرِ نو اور بحالی کا صوبائی ادارہ فاٹا سیکریٹریٹ اور دوسری متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر کرے گا۔















