انتظامی ناکامی کے بعد سیاسی کوشش

سندھ حکومت نے کراچی میں جاری بدامنی کا سیاسی حل تلاش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں بدھ کو کُل جماعتی کانفرنس یعنی اے پی سی منعقدکی جارہی ہے۔
اس سے قبل کراچی کے سیاسی حل کے لیے کل جماعتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس کےایک مطالبے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
حالیہ اے پی سی کا سیاسی جماعتیں خیر مقدم تو کررہی ہیں مگر یہ یقین دہانی چاہتی ہیں کہ حکومت کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کرے گی۔
سنہ دوہزار پانچ سے شاید ہی کوئی ایسا مہینہ ہو جس میں سیاسی، لسانی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر کوئی ہلاکت نہ ہوئی ہو، مگر بارہ مئی سنہ دو ہزار سات کو اُس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد پر شہر ہنگامہ آرائی کی گرفت میں آگیا تھا، اس دوران پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے کئی کارکن اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔
اس روز سے شہر میں سیاسی عدمِ برداشت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس سے ایم کیو ایم حقیقی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ متاثر ہوئیں۔
اس کے بعد ملک میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوئی، پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی مگر صورتحال تبدیل نہیں ہوسکی۔
رواں برس کا آغاز بھی پرتشدد واقعات سے ہوا، اب حکومت نے کراچی کی صورتِ حال پردیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کےصوبائی صدر شاہی سید کا کہناہے کہ ’فیصلہ سازی اور اس پرعمل درآمد دو مختلف مراحل ہیں اور حکومت کو دونوں ہی طے کرنے پڑیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کراچی کی صورتِ حال کا حل صرف فوجی آپریشن کو قرار دیتے ہیں۔ اُن کے بقول ’سندھ پولیس بےبس ہے، کیونکہ گزشتہ ادوار میں جب انہوں نے کام کیا تھا تو ایک ایک کرکے انہیں ماردیاگیا، انہیں اور اُن کی بیواؤں کوکیاملا؟اس لیے وہ اپنی جانوں پرکیوں کھیلیں؟ اسی طرح ایک دن رینجرز بھی پولیس کی طرح ہوجائے گی کیونکہ رینجرز کو بھی اختیارات نہیں ہیں وہ قربانی دیکربندے پکڑ کرکے آتے ہیں چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ پولیس کے حوالے کرتے ہیں جوانہیں چھوڑدیتےہیں۔‘
پیپلزپارٹی کی حکومت نےدوسری بار کل جماعتی کانفرنس کےانعقاد کا فیصلہ کیا ہے، پہلے بھی ایسی کانفرنس وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں منعقدہوئی جس سےمیڈیا کو دور رکھاگیا بعد میں فیصلے جاری ہوئے۔
شہر کےشورش زدہ علاقےگلستانِ جوہر سےجماعتِ اسلامی کےصوبائی صدر اور سابق رکنِ قومی اسمبلی مولانااسداللہ بھٹو بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔
انہوں نے بتایا ’ہم نےنوگوایریاز ختم کرنےکامطالبہ کیاتھا جوختم نہیں کیےگئے، شہرکو اسلحےسے پاک کرنے پرعمل کے بجائے مزید اسلحہ آ گیا، ہم نےملزمان کی بِلاتفریق گرفتاری کا مطالبہ کیا جس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا، حکومت نےکراچی میں امن کےلیےکوئی بھی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔‘
ڈبل سواری پر پابندی، پُرتشدد واقعات کی جوڈیشل انکوائری، مقامی سطح پرامن کیمٹیوں کا قیام اور رینجرز کو پولیس کےاختیارات کی فراہمی یہ وہ اقدامات تھے جو حکومت تشدد کےواقعات کی روک تھام کے لیےبار بار کرتی رہی مگر ہربار ان واقعات پر عمل درآمد اُسی وقت لگتا ہے جب وفاقی وزیرِ رحمان ملک کراچی آتے ہیں اور وہ انتظامی کردار کے بجائے ثالثی کا کردارادا کرتےہوئے نظر آتے ہیں۔
سول سوسائیٹی کی تنظیموں کی جانب سےشہر کواسلحہ سے پاک کرنےکی تجاویزدی گئیں، حکومت نےاس بارے میں تجاویز پیش کرنے کے لیےسیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی مگراس کی سفارشات سامنےنہیں آسکیں۔گزشتہ دنوں متحدہ قومی موومنٹ نے ملک کواسلحےسے پاک کرنے کےلیے قومی اسمبلی میں ایک بل جمع کرایا ہے۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹرفاروق ستار کا کہناہے کہ ’تیسری قوت لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر فسادات کرانےکی کوشش کرتی رہی ہے، سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ اُن کی لاٹری لگے اور ان کی لاٹری اُس وقت لگےگی جب حالات خراب ہوں گے پھر زمینوں پرقبضہ کرنا اور کھاتے تبدیل کرنےمیں آسانی ہوگی۔‘
فاروق ستار کے بقول شہریوں کی شمولیت کے بغیرامن وامان برقرار رکھنا ممکن نہیں۔’ آہستہ آہستہ ہم پولیس اور لینڈ کنٹرول شہری حکومت یا ضلعی حکومت کے حوالے کرنے کے حق میں ہیں، جیسے پوری دنیا میں ہے۔ جب ملک میں ہمارے وزیرداخلہ تھے یا اس حکومت میں ہمارا زیادہ کردار تھا اُس وقت پورے پاکستان کے لیے چھ بلین سالانہ کی سرمایہ کاری ہوتی تھی۔‘
کراچی میں امن امان کےلیےاب تک کیےگئےانتظامی فیصلےکارگرثابت ہوتے ہوئےنظر نہیں آتے۔گزشتہ کل جماعتی کانفرنس کےفیصلوں پرعمل درآمدنہ ہونا بدھ کےروز ہونےوالی کل جماعتی کانفرنس کا ایک بڑا ایجنڈا رہےگا۔
پیپلزپارٹی کراچی کےصدرنجمی عالم پرامید ہیں کہ اس بار فیصلوں پرعمل ہوگا۔’ مشاورت چیز تو اچھی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اے پی سی کا اچھا نتیجہ نکلےگا جب سب مل کر فیصلہ کریں تو اس پرعمل بھی ہوگا۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ مفاہمتی پالیسی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی پیپلزپارٹی کی حکومت انتظامی فیصلے کرنے سےقاصر ہے اور جب کبھی بھی کوشش کرتی ہے تو عدمِ استحکام کاخدشہ پیدا ہوجاتا ہے اور نتیجے میں مصلحت کےتحت کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔



















