سیلاب کا نقصان کم ہو سکتا تھا: تحقیق

،تصویر کا ذریعہRTV
امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر یورپ کی موسمیاتی پیشنگوئیوں کا تبادلہ پاکستان سے کیا جاتا توگزشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب کا نقصان کسی حد تک کم ہو سکتا تھا۔
امریکن جیوفیزیکل یونین کی طرف سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق اگر یوریپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ کی طرف سے تیار کیا جانے والے ڈیٹا پاکستان کو دیا جاتا تو اسے سیلاب کی وارننگ دس دن پہلے ہی مل جاتی۔
اس سے شمالی پاکستان میں حکام کو احتیاطی تدابیر کرنے میں مدد ملتی۔
پاکستان میں آنے والے سیلاب نے تقریباً دو کروڑ لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک اور تقریباً بیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی رؤف اینگن سوئیسل نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین اب بھی کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف نے بھی اپنے ایک جائزے میں کہا تھا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں اوسطاً 22 فیصد بچے انتہا درجے کی غذائی کمی کا شکار ہیں۔















