’سوات میں فوج مستقل طور پر تعینات‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشننومبر دو ہزار سات میں پہلی مرتبہ ڈھائی ہزار کے قریب فوج نے سوات میں آپریشن کیا تھا
وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں حکام نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں فوج کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے اور نہ ہی اسے واپس بلایا جا رہا ہے بلکہ صرف علاقے میں تعینات فوج کے کمانڈ اور کنٹرول نظام میں کچھ تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔

سوات میں تعینات ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے مالاکنڈ ڈویژن میں فوج کے دو ڈویژن الگ الگ کمانڈ اور ہیڈ کوارٹر کے ماتحت تھیں لیکن اب ان دونوں ڈویژنز کو ایک ہی کمانڈ اور ہیڈ کواٹر کے ماتحت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب پورے علاقے میں فوج صرف ایک میجر جنرل کے ماتحت کی جا رہی ہے اور وہ اس کے آپریشنل سربراہ بھی ہونگے۔

<link type="page"><caption> سوات میں فوج رہے گی: کیانی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/12/101221_kiyani_swat_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

اہلکار نے کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن کے کسی حصے سے فوج کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے یا اسے واپس بلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں تو فوج اب مستقل طور پر تعینات رہے گی کیونکہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے ہی علاقے میں تین فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس سلسلے میں فوج کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سوات سے فوج کی مرحلہ وار واپسی کے بعد آئندہ چند ماہ تک وہاں سکیورٹی کی ذمہ داری سول اداروں کے سپرد کی جائے گی۔

یاد رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دورہ سوات کے دوران سواتی عوام کو یقین دلایا تھا کہ فوج ان کی مدد کے لیے علاقے میں موجود رہے گی۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس وقت سوات اور آس پاس کے اضلاع میں تقریباً تیس سے چالیس ہزار فوج تعینات ہے۔

نومبر دو ہزار سات میں پہلی مرتبہ ڈھائی ہزار کے قریب فوج نے سوات میں داخل ہو کر شدت پسند کمانڈر مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

تقریباً دو تین سال تک علاقے میں سخت کشیدگی جاری رہی اور مئی دو ہزار نو میں ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں وادی سے طالبان کا صفایا کر کے وہاں حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی۔ تاہم اب بھی علاقے سے کبھی کبھار جھڑپوں اور محدود پیمانے پر کارروائیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔