گنے سے گڑ تک کا سفر

وقت اشاعت

چینی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں گڑ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور کاشتکار گنا شوگر ملوں کوفروخت کرنے کے بجائے اس سے گڑ بنانے کو ترجیج دیتے ہیں۔

پاکستان میں گنے کی اسی سے پچاسی فیصد پیداوار صوبہ خیبر پختونخوا سے حاصل ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گنے کی اسی سے پچاسی فیصد پیداوار صوبہ خیبر پختونخوا سے حاصل ہوتی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے کاشتکار گنے کی کاشت سے لے کر اس گڑ کی تیاری تک سخت مشقت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا کے کاشتکار گنے کی کاشت سے لے کر اس گڑ کی تیاری تک سخت مشقت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔
گڑ کی تیاری میں سب سے پہلا مرحلہ گنے کی کھیتوں سے کٹائی اور اسے کھیتوں کے بیچوں بیچ بنائے گئے گڑ سازی کے کارخانے تک لانا ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگڑ کی تیاری میں سب سے پہلا مرحلہ گنے کی کھیتوں سے کٹائی اور اسے کھیتوں کے بیچوں بیچ بنائے گئے گڑ سازی کے کارخانے تک لانا ہوتا ہے۔
یہاں گنے کو بیلنے میں سے گزار کر اس سے رس حاصل کیا جاتا ہے اور اس رس کو ایک بہت بڑے کڑاہ میں ڈال کر اس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہاں گنے کو بیلنے میں سے گزار کر اس سے رس حاصل کیا جاتا ہے اور اس رس کو ایک بہت بڑے کڑاہ میں ڈال کر اس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے۔
مسلسل کئی گھنٹے تک آگ پر پکنے کے بعد گنے کا رس گاڑھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمسلسل کئی گھنٹے تک آگ پر پکنے کے بعد گنے کا رس گاڑھا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
پکنے کے اس عمل کے دوران گنے کے رس میں میٹھا سوڈا اور دیگر کیمیائی مواد ڈال اس میں سے مختلف کثافتوں کو الگ کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپکنے کے اس عمل کے دوران گنے کے رس میں میٹھا سوڈا اور دیگر کیمیائی مواد ڈال اس میں سے مختلف کثافتوں کو الگ کیا جاتا ہے۔
ایک ماہر گڑ مسلسل اس کی سطع پر جمع ہونے والی جھاگ اور دیگر کثافتوں کو ایک چھلنے کی مدد سے باہر نکالتا رہتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک ماہر گڑ مسلسل اس کی سطع پر جمع ہونے والی جھاگ اور دیگر کثافتوں کو ایک چھلنے کی مدد سے باہر نکالتا رہتا ہے۔
گڑ کی تیاری کے اس عمل کے دوران کاشتکار اپنے عمر بھر کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگڑ کی تیاری کے اس عمل کے دوران کاشتکار اپنے عمر بھر کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گنے کا رس مسلسل آگ پر پکنے کے بعد ایک لئی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگنے کا رس مسلسل آگ پر پکنے کے بعد ایک لئی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس مرحلہ پر اسے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے ایک لکڑی کے بنے ہوئے کھلے برتن میں ڈالا جاتا ہے جسے کئی علاقوں میں ’آتھرا‘ کہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس مرحلہ پر اسے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے ایک لکڑی کے بنے ہوئے کھلے برتن میں ڈالا جاتا ہے جسے کئی علاقوں میں ’آتھرا‘ کہتے ہیں۔
اسے ٹھنڈا کرنے کے عمل کے دوران مسلسل ہلایا جاتا ہے تاکہ یہ خستہ رہے۔
،تصویر کا کیپشناسے ٹھنڈا کرنے کے عمل کے دوران مسلسل ہلایا جاتا ہے تاکہ یہ خستہ رہے۔
جب اس کی اوپر کی سطع ٹھنڈا ہو کر سخت ہو جاتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ اب گڑ کی بھیلیاں بنانے کے لیے تیار ہے۔
،تصویر کا کیپشنجب اس کی اوپر کی سطع ٹھنڈا ہو کر سخت ہو جاتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ اب گڑ کی بھیلیاں بنانے کے لیے تیار ہے۔