ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کی تحویل میں

ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے حوالے
،تصویر کا کیپشنریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کے حوالے
وقت اشاعت

لاہور میں دو پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو حفاظتی نکتہ نظر سے پنجاب پولیس کے تفتیشی ادارے سی آئی اے کی تحویل میں دیا گیا ہے جنہوں نے ملزم کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کو ایک کمرے میں رکھا گیا ہے جسے حوالات قرار دیا گیا ہے اور اس کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے ساتھ تعاون نہیں کررہا اور ملزم کا موقف یہی ہے کہ اُس نے اپنے دفاع میں دو افراد فیضان اور فہیم کو گولیاں ماریں۔ ملزم کے عدم تعاون کی وجہ سے اس مقدمے کی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار اس مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے مقتول افراد کے ورثاء کے علاوہ عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جارہے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ عمومی طور پر ملزم سے اس مقدمے کی تفتیش کا عمل شام کے وقت شروع کیا جاتا ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکار گُزشتہ آٹھ روز سے پولیس کی تحویل میں ہیں اور اس دوران پانچ مرتبہ ملزم کا میڈیکل چیک اپ کروایا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ ڈاکٹر پولیس کا نہیں ہے بلکہ ماہر ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروایا گیا ہے جس کی فیس پولیس کا محکمہ ادا کرے گا۔

تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار نے بتایا کہ ملزم کے ساتھ غیر ملکی بھی ملاقات کے لیے آتے ہیں جن کے بارے میں یہی بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تعلق امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے سے ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کسی بھی شخص کو ملزم کے ساتھ ملنے کی اجازت نہیں ہے حتی کہ اُن کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی ریمنڈ ڈیوڈ کے ساتھ بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کا کہنا ہے کہ ملزم کے لیے کھانا اور پینے کا پانی بھی باہر سے منگوایا جاتا ہے اور یہ کھانا عمومی طور پر فائیو سٹار یا انٹرنیشنل چین کے فاسٹ فوڈ سے منگوایا جاتا ہے جس کے تمام اخراجات پولیس برداشت کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کھانے میں ملزم کی رائے کو اولیت دی جاتی ہے اور وہ جو چاہیے اُسی قم کا کھانا منگوایا جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفارت خانے کے جو اہلکار ریمنڈ ڈیوڈ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں اور اُن کے لیے کھانے پینے کا سامان لیکر آتے ہیں اُس کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔سرکاری اہلکار کا کہنا تھاملزم کے سونے کے لیے ایک بیڈ کا انتظام بھی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق امریکی سفارت خانے کی ترجمان کورٹنی بیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سفارت خانے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سفارت خانے نے اس بات پر پاکستانی حکومت سے شکایت کی ہے کہ گُزشتہ سماعت کے دوران ریمنڈ کو عدالتی وقت سے پہلے ہی پیش کردیا گیا جس کی وجہ سے ملزم کو قانونی مدد فراہم نہیں کی جاسکی۔ اُنہوں نے کہا کہ آئندہ سماعت پر امریکی اہلکار کو قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔

امریکی سفارت خانے نے ایک مرتبہ پھر اپنے بیان کو دھرایا ہے کہ ریمنڈ ڈیوڈ سفارت کار ہے اور پولیس نے اُسے غیر قانونی طور پر اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے جو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی اسلم ترین نے بی بی سی کو بتایا کہ وقوعہ کے روز ملزم سے جو پاسپورٹ برآمد ہوا ہے اگرچہ وہ سفارتی پاسپورٹ ہے لیکن اُس پر ویزا بحیثیت سفارت کار نہیں لگایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس پاسپورٹ پر وہ ویزا ہے جو عام امریکیوں کو دیا جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملزم ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہے اور اُس سے پوچھ گچھ جاری ہے اس لیے جب ملزم کا جسمانی ریمانڈ پورا ہوجائے گا اور اُسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے گا تو پھر اُس کے بعد اس مقدمے میں ہونے والی تفتیش سے متعلق رپورٹ پنجاب حکومت کو بھجوائی جائے گی۔