کرک:جاسوسی کا الزام، چار ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں چار نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیا گیا ہے۔
کرک پولیس کے مطابق یہ لاشیں سنیچر کی صبح کرک شہر سے کوئی بارہ کلومیٹر دور مغرب کی جانب نری پلوسہ کے علاقے سے ملی ہے۔
کرک تھانہ کے انچارج پیر محسن شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ چاروں افراد مبینہ طورپر بیرونی ممالک کے خفیہ اداروں کےلیے مخبری کرنے میں ملوث تھے۔
پولیس اہلکار کے مطابق یہ خط اتحاد مجاہدین خراسان نامی ایک غیر معروف تنظیم کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر مرنے والے افراد کسی اور علاقے میں قتل کیےگئے ہیں لیکن ان کی لاشیں ضلع کرک کی حدود میں لا کر پھینکی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والے افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ ان کی عمریں بیس سے تیس سال کے قریب بتائی جاتی ہیں۔
مقامی انتظامیہ نے چاروں لاشیں لاوارث سمجھ کر امانتاً دفن کر دی ہیں۔
خیال رہے کہ ضلع کرک میں اس قسم کی لاشیں ملنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق کرک خیبر پختونخوا کا وہ ضلع ہے جو شروع سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات سے محفوظ رہا ہے۔
یہاں تقریباً ایک سال قبل پولیس تھانے پر ایک حملے میں کچھ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ تاہم اس کے علاوہ اس علاقے میں اس قسم کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















