نیٹو سپلائی کے دو آئل ٹینکرز تباہ

فائل فوٹو، نیٹو سپلائی
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں اس سے پہلے بھی نیٹو سپلائی پر متعدد بار حملے ہو چکے ہیں
وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی بولان میں نامعلوم مسلح افرادنے فائرنگ کر کے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز کو تباہ کر دیا ہے۔

اس واقعے میں تین آئل ٹینکرز کو نقصان پہنچا ہے جب کہ نامعلوم مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> نیٹو رسد کی حفاظت: ذمہ دار کون؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101006_nato_tankers_security.shtml" platform="highweb"/></link>

پیر کی صبح کو صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے تقریباً دو سو بیس کلومیٹر دورجنوب مشرق میں واقع ضلع کچھی بولان کے علاقے مٹھڑی کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہوٹل پر کھڑے پانچ آئل ٹینکروں پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی جس کے باعث ان ٹینکرز میں آگ بھڑک اٹھی۔

فائرنگ کے نتیجے میں دوآئل ٹینکرز مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ تین کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔فائرنگ کے بعد نامعلوم افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر مٹھڑی محمد اعظم شاہوانی کے مطابق متاثرہ ٹینکرز افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے کراچی سے تیل لے کر براستہ سبی افغانستان جا رہے تھے۔

نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ نےفوری طور پر موقع پر پہنچ کر تین آئل ٹینکروں کو آگ لگنے سے بچا لیا۔

محمداعظم کے مطابق نیٹو ٹینکرز پر فائرنگ میں چار افراد ملوث تھے لیکن فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیےعلاقے کی ناکہ بندی کردی گئی تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نیٹوافواج کے لیے تیل لے جانے والے درجنوں آئل ٹینکروں پر حملے ہوچکے ہیں لیکن ان حملوں میں ملوث افراد آج تک گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔

اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے کئی بار دعوے کیے گئے ہیں کہ ان ٹینکروں کی حفاظت کے لیے نہ صرف سرکاری سطح پر سخت حفاظتی انتظامات کیے جا چکے ہیں بلکہ ان ٹینکروں کی نگرانی کے لیے کراچی سے لیکر افغان سرحد سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن تک آباد مختلف قبائل کے خدمات بھی حاصل کیے گئے ہیں جن کو فی ٹینکرکے حساب سے ہزاروں روپے معاوضہ بھی دیا جاتا ہے لیکن ٹینکروں پر حملوں کا سلسلہ تاحال بند نہیں ہوا ہے۔