کرم، شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے

کرم ایجنسی میں لوگ فضائی سفر کے انتظار میں (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنکرم ایجنسی میں لوگ فضائی سفر کے انتظار میں (فائل فوٹو)
وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شیعہ اور سنی قبائل کے ایک مشترکہ امن جرگہ کی کوششوں سے علاقے میں تقریباً چار سال سے بند تمام سڑکیں پہلی مرتبہ عام ٹریفک کےلیے کھول دی گئی ہیں۔

اس فیصلے سے پوری ایجنسی میں جشن کا سماں ہے اور مخالف قبائل نے ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنا کر مبارک باد دی جبکہ شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے۔

امن معاہدے کے بعد منگل کو پہلی مرتبہ تقریباً پچاس سے ساٹھ گاڑیوں پر مشتمل امن قافلہ قبائلی جرگہ اور مقامی حکام کے ہمراہ پشاور سے سڑک کے ذریعے صدر مقام پارہ چنار پہنچ گیا ہے۔

یہ قافلہ ہزاروں افراد پر مشتمل تھا جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو پچھلے تین چار سال سے سڑکوں کی بندش کی وجہ سے پشاور اور دیگر علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔

اس قافلے میں شامل قبائلی جرگہ کے ایک رکن اور پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر ملک وارث خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ شیعہ سنی مشران اور حکومت کی کوششوں سے علاقے میں تقریباً چار سال سے بند ٹل پارہ چنار شاہراہ اور دیگر سڑکیں عام ٹریفک کےلیے کھول دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل سے کرم ایجنسی میں سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے اور پشاور اور پارہ چنار سے مسافر گاڑیاں کی آمد و رفت بلا خوف و خطر جاری ہے۔

ملک وارث خان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بند سڑکیں دو ہزار آٹھ میں مری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت کھولی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے بقیہ شقوں پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا جن میں بے دخل کرائے گئے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی خصوصی طورپر قابل ذکر ہے۔

ادھر تین برس کے بعد اپنے شہر پارہ چنار پہنچنے والے ایک مقامی باشندے کفایت حسین نے بتایا کہ سڑکوں کے کھولنے سے علاقے میں جشن کا سماں ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ایجنسی کے عوام کو پہلی بار آزادی ملی ہو۔

انہوں نے کہا کہ امن قافلہ کا چپری چیک پوسٹ سے لے کر پارہ چنار شہر تک ساٹھ ستر کلومیٹر کے فاصلے پر جگہ جگہ گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور مختلف مقامات پر شعیہ سنی قبائل نے روایتی رقص پیش کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں شیعہ اور سنی قبائل نے بغل گیر ہوکر ایک دوسرے کا خیر مقدم کیا اور شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند دن پہلے کرم ایجنسی میں طالبان کے ایک کمانڈر فضل سعید نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ سنی امن معاہدہ اور سڑکوں کے کھولنے کا خیر مقدم کیا تھا۔ انہوں نےخبردار کیا تھا کہ جس فریق نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائےگی۔

خیال رہے کہ کرم ایجنسی میں نومبر دو ہزار سات میں ہونے والی شدید جھڑپوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں فریقین نے ایک دوسرے کے پچاس سے زائد دیہات کو نذرآتش کردیا تھا جبکہ سینکڑوں افراد کو اپنے اپنے علاقوں سے زبردستی بے دخل کیا گیا تھا۔ بے گھر ہونے والے افراد بدستور دوسرے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لڑائی کے نتیجے میں فریقین نے اپنے اپنے علاقوں میں مختلف مقامات پر ٹل پارہ چنار شاہراہ ایک دوسرے کےلیے بند کردی تھی۔ اس بندش کی وجہ سے شیعہ اور سنی قبائل کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ بعد میں کچھ عرصہ تک پارہ چنار سے سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں قافلوں کی آمد و رفت جاری رہی لیکن ان پر بھی متعدد بار حملے ہوئے اور ان میں کئی افراد ہلاک ہوئے جبکہ افغانستان کے راستے سے جانے والے قافلوں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔ سڑکوں کی بندش میں جب شدت آئی تو کچھ وقت تک لوگ پارہ چنار سے پشاور نجی و سرکاری ہیلی کاپٹروں اور طیاروں میں سفر کرتے رہے۔