پی آئی اے کی تمام پروازیں منسوخ

گزشتہ چار روز میں پی آئی اے کی ڈھائی سو سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں
،تصویر کا کیپشنگزشتہ چار روز میں پی آئی اے کی ڈھائی سو سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں
وقت اشاعت

پاکستان کی قومی ایئر لائن نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر اس کے تمام آپریشن معطل ہیں۔ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےاحتجاج کا آج چوتھا دن ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان مشہود تجور نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی ایئر لائن کی کسی پرواز کی روانگی اور نہ ہی آمد ہوئی ہے، ان کے مطابق چار روز میں کوئی ڈھائی سو سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔

کراچی کے مرکزی علاقے صدر میں واقع پی آئی اے کے مرکزی بکنگ آفس کو بھی بند کرا دیاگیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے زبردستی بکنگ آفس بند کرایا ہے۔ اسلام آباد میں آج ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزیر رحمان ملک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

جمعرات کو مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر رحمان ملک نے بتایا تھا کہ ملازمین سے اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ہر ہوائی اڈے پر ایک جگہ مختص کی جائے گی جہاں یہ ملازم اپنا احتجاج کریں کیونکہ ہڑتال کرنا اور احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے جس سے انہیں روکا نہیں جائے گا۔

پولیس نے جناح ٹرمینل پر لاٹھی چارج کرکے احتجاج کرنے والے ملازمین سے لاونج کو خالی کرا لیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے ملازمین کو متنبہ کیا تھا کہ ایئرپورٹ پر دفعہ 144 کا نافذ کردیا گیا ہے اور وہاں کوئی اجتماع نہیں کیا جاسکتا۔مگر جب ملازمین نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کر دیا تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کردیا۔اس دوران کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے

اس سے قبل پیپلز لیبر یونٹی کا ایک جلوس جناح ایئرپورٹ کراچی پہنچ گیا ہے اور اس نے ٹرمینل کے قریب دہرنا دیا جہاں پہلے ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دہرنا جاری ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سہیل بلوچ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو وہ مذاکرات کا بائیکاٹ کردیں گے۔

دریں اثنا ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون نے ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ترکش معاہدے کی کوئی بات نہیں ہو رہی کیونکہ ہر فورم پر انہیں بتا دیا گیا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھا جس کے بعد ایکشن کمیٹی ان کی برطرفی کا مطالبہ لےکر آگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں پریشانی مسافروں کو ہو رہی ہے، جس کا انہیں افسوس ہے۔’ اگر مجھے پر کوئی الزامات ہیں تو میڈیا ٹرائل کیوں کر رہے ہیں، جوڈیشل کمیشن بنایا جائےجو تمام الزامات کی انکوائری کرے وہ اس کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔‘

ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو معاہدے ہوئے ہیں وہ تمام ہی سوالیہ ہیں اور ترکش ایئر لائن سے یہ جو معاہدہ کرنے جا رہے تھے وہ بھی مشکوک تھا ۔

پی آئی اے گزشتہ کئی سالوں سے خسارے کا شکار ہے، ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف تین روز میں ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ایم ڈی ہر مہینے دو ارب روپے کا نقصان کرتے آئے ہیں، اب جو نقصان ہو رہا ہے وہ پی آئی اے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ہورہا ہے۔