پنجاب میں بسنت پر پابندی برقرار

پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے بسنت کا تہوار منانے پر عائد پابندی نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پتنگ بازوں کی تنظیم نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر بسنت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان کے بقول یہ فیصلہ گہرے غور وخوض کے بعد کیا گیا ہے۔
پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل اس تہوار یعنی بسنت کو موسم بہار کی آمد کے موقع پر ہرسال منایا جاتا ہے تاہم بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ لاھور میں پتنگ بازوں کی مرکزی تنظیم نے اس ماہ کی چھبیس اور ستائیس تاریخ کو بسنت منانے کا اعلان کیا تھا جبکہ صوبے میں حکمران جماعت کے قائد نواز شریف نے بھی بسنت پر پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی
اس کمیٹی میں حکومتی ارکان کے علاوہ لاہور کی معروف سماجی شخصیت میاں یوسف صلاح الدین بھی شامل تھے۔
پتنگ بازوں کی مرکزی تنظیم کے سربراہ سلیم شیخ نے اپنے درعمل میں کہا کہ حکومت کا فیصلہ پتنگ بازی کے شوقین کے لیے ایک بری خبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بسنت منانے کے اجازت دینے کے لیے کمیٹی بنانے سے لوگوں کی توقعات بڑھیں تھیں لیکن اب اس فیصلے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیم شیخ کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے کے حوالے سے ان کی تنظیم کا اجلاس بلایا جائے جس میں آئندہ کا لائحہ ترتیب دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کی قانون اجازت دیتا ہے اور اسی لیے ہوسکتا ہے کہ حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے۔
کچھ دن پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا تھا کہ بسنت کے تہوار منانے کی مشروط اجازت دی جائے اور بقول ان کے بسنت کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی شہری کا گلا نہ کٹے۔
ان کا کہناتھا کہ دل چاہتا ہے کہ ڈور اور پتنگیں لے کر نواز شریف کے پاس جاؤں اور ان کے ساتھ مل کر پتینگیں اڑاوں۔
خیال رہے کہ لاہور کے ایک وکیل خالد ظفر نے پتنگ بازی پر پابندی کے قانون کے خاتمے کے لیے لاہور کی ایک عدالت سے رجوع کررکھا ہے اور ان کی درخواست عدالت کے روبرو زیر سماعت ہے ۔



















