وزرات خارجہ کو مہلت، امریکہ کی مایوسی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ امریکہ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے عدالت میں ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ کے حوالے سے تصدیق نہ کرنے پر مایوسی ہوئی ہے۔
اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کے بارے میں جواب داخل کرانے کے لیے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو چودہ مارچ تک کی مہلت دے دی تھی۔
عدالت میں مہلت میں اضافے کی استدعا وزارت خارجہ نے کی تھی۔
وفاقی وزارت داخلہ نےعدالت کو بتایا ہے کہ ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے مقدمہ میں گرفتار ہیں اور عدالتی تحویل میں لاہور کی سینٹرل جیل میں بند ہے۔
<link type="page"><caption> ایک ایشو پر تعلقات قربان نہیں ہو سکتے: صدر زرداری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110216_raymond_zaradri_kerry_qureshi_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> استثنیٰ عدالت میں ثابت کریں گے: امریکہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110215_davis_immunity_usa_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’سفارتی قوانین کے تحت فوری رہا کریں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110211_raymond_free_immediately_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کی شام کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے امریکی سفیر کیمرون منٹر سے منسوب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ریمنڈ ڈیوس کے کیس کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی سفیر کے مطابق سینیٹر جان کیری کا دورہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے سے متعلق ہماری خواہش کا اظہار ہے۔
لاہور میں ہونے والی سماعت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا’ امریکہ کو پاکستان کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ کے حوالے سے تصدیق نہ کرنے پر مایوسی ہوئی ہے۔‘
جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف کی سربراہی میں بینچ ان چار مختلف درخواستوں کی سماعت کی جن میں کہا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے لیکن خدشہ ہے کہ حکومت امریکی دباؤ میں آ کر ریمنڈ کو رہا کر دے گی۔
عدالت نے گذشتہ سماعت میں امریکی شہری کو بیرون ملک بھجوانے پر پابندی عائد کر دی تھی اور وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید کرے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں حاصل ہے۔
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق جمعرات کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نوید عنایت ملک نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے ریمنڈ ڈیوس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے یعنی ملزم کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا جو بیرون ملک نہیں جا سکتے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے کہا ہے کہ ابھی تک وفاقی حکومت نے ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کے بارے میں کوئی سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کو ابھی تک دو طرح کی دستاویزات ملی ہیں جن میں سے ایک امریکی سفارتخانے کی طرف سے جوڈیشل مجسٹریٹ کو اور دوسری وزارت داخلہ کو دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں دستاویزات نے ابہام پیدا کر دیا ہے کیونکہ ایک دستاویز کے مطابق ریمنڈ ڈیوس سفارتخانے کا ملازم ہے اور دوسری کےمطابق وہ قونصل خانے کا اہلکار ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس اگر قونصل خانے کا اہلکار ہے تو ویانا کنونشن کے سنہ انیس سو تریسٹھ کے آرٹیکل اڑتالیس کے تحت سنگین جرم میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کا سفارتی استثنیٰ ختم ہوجاتا ہے۔
وفاق کے وکیل نوید عنایت ملک نے وزارت خارجہ کی طرف سے ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کے بارے میں جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتے کی مہلت طلب کی جو عدالت نے منظور کرلی۔
عدالت نے ایک موقع پر کہا کہ ابھی تک وزارت خارجہ کا موقف سامنے نہیں آیا ہے اس لیے اس مقدمہ میں مزید کچھ پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ عدالت نے سماعت چودہ مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کے بیرون ملک جانے پر جو پابندی عائد کی تھی وہ اگلی سماعت تک برقرار رہے گی۔
ریمنڈ ڈیوس کے خلاف دہرے قتل کا مقدمہ سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے اس کے علاوہ ان کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا بھی مقدمہ درج ہے۔
مقامی مجسٹریٹ نے اس مقدمہ میں ان کی ضمانت منظور کرلی تھی اور ریمنڈ ڈیوس کے وکلاء کو مچلکے داخل کرانے کا حکم دیا تھالیکن تاحال ریمنڈ ڈیوس کی جانب سے مچلکے داخل نہیں کرائے گئے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سفارت کار ہیں اور ویانا کنونشن کے تحت انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور پاکستان اس کنونشن کا پاس رکھتے ہوئے انھیں رہا کرے جب کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزرات خارجہ کی بریفنگ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اور دفتر خارجہ کے ترجمان کو تبدیل کیا جاچکا ہے۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اصولی موقف اختیار کرنے کی سزا ملی ہے۔



















