جرنیلوں کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ

حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ندیم افضل گوندل نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح وفاقی کابینہ میں رائٹسائزنگ کی گئی ہے اُسی طرح فوج میں بھی اسی عمل کو دھراتے ہوئے جرنیلوں کی تعداد کم کی جائے۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملک میں امن وامان کی صورت حال پر تقریر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک کو فوج کی ضرورت ہے جرنیلوں کی نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ برگیڈئیر رینک کے افسران تک کی ضرورت ہے۔ رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایسا بھی ہونا چاہیے کہ آرمی چیف کی زیر صدارت ہونے والے کورکمانڈر کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ کوئی بھی جرنیل ایک پلاٹ سے زیادہ نہیں لے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو اس میں مذہب کو شامل نہ کیا جائے۔
ندیم افضل کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں بااثر افراد کے کوئی سیاسی نظریات نہیں ہوتے اور یہ افراد صرف اپنے مفاد کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ ملکی مفاد کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ اُنہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا جو پہلے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے قریب تھا اُسی مافیا کے ہوائی جہازوں میں ملک کے موجودہ وزیر داخلہ بھی سفر کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹیوں میں بااصول افراد کو سامنے لایا جائے کیونکہ اُن کی نظر میں پارٹیوں میں مخبر بھی دہشت گردوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملک میں طبقاتی فرق کی وجہ سے امن وامان کی صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس فرق کو مٹانے کی ضرورت ہے اور صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان کی صورت حال کو بہتر نہیں بنا سکتے جب تک اس کے لیے مجموعی کوششیں نہ کی جائیں۔
پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کی تمام تر ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ سیاست دان بھی اس میں برابر کے حصے دار ہیں۔
پنجاب کے ضلع جھنگ سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ تمام مدرسوں کی رجسٹریشن مکمل کی جائے کیونکہ پنجاب میں سالانہ 75 ہزار طالب علم ان مدرسوں سے تعلیم مکمل کرکے نکلتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان مدرسوں کے ساتھ اگر حکومت رابطے رکھے تو شدت پسندی ختم کی جاسکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے شیخ آفتاب نے کہا کہ ماضی میں امن وامان کی خراب صورت حال کی ذمہ داری فوجی آمروں پر ڈالی جاتی ہے لیکن یہ تو جمہوری حکومت ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا اگرچہ امن وامان کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہیں لیکن وفاقی حکومت کی بھی یہ ذمہ درای ہے کہ وہ ان حکومتوں کو گائیڈ لائن دے۔



















