’سپریم کورٹ کی حکومت کو تنبیہہ‘

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور پارلیمانی کمیٹی کو خبردار کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کی ملازمت میں توسیع نہ کرنے سے متعلق درخواستوں پر ان کی طرف سے عدم پیروی کی بنا پر عدالت یک طرفہ فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کو حکم دیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے کیس کی پیروی کے لیے وکیل نامزد کروایں۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کی ملازمت میں توسیع نہ کرنے کے پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اٹھارہویں ترمیم سے متعلق اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے کی صورت میں ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی۔ یہ وجوہات تحریری شکل میں عدالت میں پیش کی جائیں گی جن کا فیصلہ بالآخر سپریم کورٹ ہی کرے گی۔
کیس کی سماعت چار رکنی بینچ کر رہا تھا جس کی سربراہی جسٹس شاہد اختر صدیقی کر رہے تھے اور باقی ججز میں جسٹس جواد خواجہ،جسٹس طارق پرویز اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل تھے۔
سماعت کے دوران مولوی انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کا رکن ہونے کی وجہ سے وہ وفاق اور پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے کیس کی پیروی نہیں کر سکتے۔
اسلام آباد سے سناء احمد کے مطابق بینچ نے اٹارنی جنرل اور وزارت قانون کے وکیل ناصر علی شاہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی طرف سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود وفاقی حکومت اور پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے کوئی موجود نہ تھا۔
جسٹس جواد خواجہ نے کہا ’یہ پاکستان کے لیے ایک اہم مقدمہ ہے اور اس کے باوجود، حکومت اور پارلیمانی کمیشن کی طرف سے کوئی نمائندگی نہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس جواد خواجہ نے پھر بھری عدالت میں عدالتی نوٹس کی پیشکش کے حوالے سے تحریری جواب پڑھ کر سنایا۔
دستاویز میں لکھا تھا کہ سینیٹ کے سیکرٹریٹ کے کلرک نے پہلے نوٹس قبول کرنے سے انکار کیا پھر فون پر کسی سے بات کر کے نوٹس لینے پر آمادہ ہو گئے مگر پھر کہا کہ نوٹس قبول کرنے کے لیے متعلقہ سیکرٹری کا نام نوٹس پر درج ہونا چاہیے۔
عدالت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو کہا کہ اگر وفاق اور پارلیمانی کمیشن کو اپنے کیس کی پیروی کروانے میں دلچسپی نہیں تو عدالت یک طرفہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
جسٹس جواد خواجہ نے کہا ’ججز کی تعیناتی سے متعلق آئینی ترامیم کی وجہ سے ہم ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے دشواریاں پیش آئیں گی اور روایات قائم کرنے میں وقت لگے گا۔ مگر ہمیں توقع ہے کہ اس عمل میں سب فریقین اتنی ہی دلچسپی لیں گے‘۔



















