’پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ‘

حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے اعلان کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
اس دوران صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے وزراء اپنے طور پر مستعفی نہیں ہونگے اور نواز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے وزراء کو کابینہ سے نکالنے کے اعلان پر عمل درآمد کا انتظار کریں گے۔
واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ <link type="page"><caption> پنجاب میں اُن کی جماعت اور پیپلز پارٹی کی راہیں جُدا ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110225_sharif_presser_punjab_zz.shtml" platform="highweb"/></link> اور وزیراعلیٰ پنجاب چند روز میں موجودہ کابینہ کو تحلیل کر کے نئی کابینہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما سینیٹر رضا ربانی نےکہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے درخواست دے گی۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے اپنے امیدوار کا انتخاب بھی کرے گی اور یہ کہ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔
رضا ربانی نے کہ ’ہمیں اب پنجاب حکومت کا احتساب کرنا چاہیے اور یہ کہ پنجاب حکومت کو اپنے عمل کے لیے پنجاب کے لوگوں اور اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہونے پڑے گا‘۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں موثر حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ایشوز سے متعلق سیاست کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جو مثبت روایات ہم نے اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مل کر قائم کی ہیں ان کو ہم آگے لے کر چلیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ نظام غیر مستحکم نہیں کیا جانا چاہیے اور وہ ہر اپوزیشن کی طرح پنجاب کی حکومت کا احتساب کریں گے۔
لیکن رضا ربانی نے اپنی نیوز کانفرنس کے دوران ایک سے زیادہ بار کہا کہ پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اس پالیسی کو جاری رکھے گی۔
انھوں نے کہا کہ جمعہ کے اقدام سے ملک میں کوئی سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا اور وفاقی حکومت مسحتکم ہے اور وسط مدتی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔
اس نیوز کانفرنس میں بین الصوبائی وزیر سنیٹر رضا ربانی کے علاوہ وزیر قانون بابر اعوان، پیپلز پارٹی کے ترجمان قمر الزماں کائرہ کے علاوہ پنجاب کی حکومت میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء بھی موجود تھے۔
رضا ربانی نے مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ ان کی طرف سے دیے گئے دس نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر کوئی اطمینان بخش پیش رفت نہیں ہوئی۔
انھوں نے نواز شریف کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پینتالیس دن کی قلیل مدت میں کئی امور پر مثالی پیش رفت ہوئی ہے۔



















