’کارروائی کو آگے بڑھایا جائے یا نہیں‘

مقامی عدالت نے ریمنڈ ڈیوس پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے عدالت نے تین مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے
،تصویر کا کیپشنمقامی عدالت نے ریمنڈ ڈیوس پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے عدالت نے تین مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے کیمرے سے ملنے والی عسکری تنصیبات اور اہم مقامات کی تصویروں کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔

پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے کیمرے سے کچھ ایسے مقامات کی تصویریں ملی ہیں جنہیں عکس بند کرنا قانونی ماہرین کےمطابق آرمی ایکٹ، ڈیفنس آف پاکستان رولز کی خلاف ورزی ہے۔

<link type="page"><caption> ریمنڈ ڈیوس اور پاک امریکہ تعلقات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110223_raymond_davis_issue_as.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’ریمنڈ سی آئی اے کا اہلکار ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110221_raymond_cia_us.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ریمنڈ ڈیوس کس کے گلے کا کانٹا: ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/02/110216_us_pak_crisis_kq.shtml" platform="highweb"/></link>

حکام کے مطابق یہ تصویریں پاکستان بھارت سرحد پر فوجی بنکرز کی ہیں۔ یہ بنکرز ایسے مقامات پر بنے ہیں جو کسی سٹیلائٹ یا گوگل ارتھ وغیرہ جیسے کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے بھی دکھائی نہیں دیے جا سکتے،ان کے علاوہ پشاور کے ایف سی قلعہ اور کچھ ایسے پلوں کی تصاویر ہیں جن کی دفاعی اہمیت ہے۔

لاہور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ تصویریں اب وزارت خارجہ کو بھجوا دی گئی ہیں۔پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس معاملے پر فوج کی اپنی انٹیلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسیاں چھان بین کر رہی ہیں۔

ایک افسر کے الفاظ تھے کہ ’معاملہ اب فوج اور وزارت خارجہ کے پاس ہے وہ ہی کچھ بتا سکیں گے،ہم نے جو کچھ تفتیش کی تھی اس کا چالان عدالت پیش کر دیا ہے۔‘

ریمنڈ ڈیوس کے ہی کیمرے سے ان دونوں لڑکوں کی تصویریں بھی ملی ہیں جنہیں اس نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔ایک تصویر میں مقتول فیضان کے ہاتھ میں سلور رنگ کا پستول صاف دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس کی تفتیش کےمطابق ریمنڈ نے ایک نوجوان کو بائیس فٹ اور دوسرے کو پچاس فٹ کے فاصلے سے گولی ماری تھی۔

ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اتنی دور سے گولیاں اپنے دفاع کے لیے نہیں ماری جا سکتیں لیکن اس سوال کا جواب کوئی پولیس افسر نہیں دینا چاہتا ہے کہ اگر یہ گولیاں ریمنڈ نے اپنے دفاع میں نہیں ماری تھیں تو پھر دن دہاڑے دو افراد کو قتل کرنے کا محرک کیا تھا؟

یہ محرک پولیس کے مرتب کردہ چالان میں بھی نہیں لکھا گیا جس میں یہ محیر العقول بات بھی لکھی ہے کہ ریمنڈ کو بچانے کے لیے جو گاڑی آئی تھی اس نے فرار ہوتے ہوئے ماسک دستانوں اور ایمونیشن سمیت جاسوسی سے متعلقہ کچھ سامان فلیٹیز ہوٹل اور شملہ پہاڑی کے سامنے گرا دیے تھے۔چالان میں یہ بھی نہیں لکھا کہ یہ سامان گاڑی سے کیسے گرا اور گرتے ہوئے کس نے دیکھا۔

ویسے تو پولیس کا کوئی بھی افسر ریمنڈ ڈیوس کیس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے لیکن پولیس افسروں کی نجی محفلوں میں یہ کیس بہرحال موضوع سخن رہتا ہے۔

لاہور میں ڈاکوؤں اور چوروں کا ریکارڈ رکھنے والے پولیس کے شعبہ سی آئی اے کے ان اہلکاروں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کیس کی تفتیش میں مدد کی تھی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ دونوں لڑکے فوج کی خفیہ عسکری ایجنسی آئی ایس آئی کے ایجنٹ یا سب ایجنٹ تھے؟

اس وقت ان تمام کے چہرے پر پہلے حیرت آئی اوراس کے بعد ایک دو مسکرائے اور ایک دو نے خاص لاہوری انداز میں قہقہ لگایا۔’او یار تسی صحافی لوگ بھی کیا کیا سوچ لیتے ہو،اور میرے بھائی یہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کی جھڑپ نہیں ہوئی تھی۔دونوں عام سے لڑکے تھے جیسے کہ لاہور میں اکثر پستول لیے گھومتے ہیں۔‘

کوئی پولیس افسر اب یہ نہیں کہتا کہ لڑکے ڈاکو تھے کیونکہ واردات کے فوری بعد جس پولیس افسر نے یہ الفاظ کہے تھے اسے انکوائری کا سامنا ہے۔

فائل فوٹو،
،تصویر کا کیپشنفیضان کے بڑے بھائی عمران حیدر

میرا اگلا سوال تھا کہ ایک عام جرائم پیشہ شخص یا ڈاکو اسی طرح کی اسلحہ بیلٹ کیوں پہنے گا جس طرح کی بیلٹ ان لڑکوں نے اپنے سینے پر باندھ رکھی تھی میرا استدلال تھا کہ یہ بیلٹ تو کسی بھی ناکے پر ان لڑکوں کو گرفتار کرانے کا سبب بن سکتی تھی کیونکہ اگر پستول پتلون کی جیب یا کمر پر پتلون کی بیلٹ میں اڑسا ہو تو ناکے سے بچنا نسبتاً آسان ہے۔

ایک پولیس افسر نے کہا کہ اب ڈاکو یہ بیلٹ اس لیے پہنتے ہیں کہ اس کے ذریعے پستول کو کمر پر گردن سے نیچے ایسے مقام پر رکھا جا سکتا ہے جہاں تلاشی لینے والے کا ہاتھ عموماً نہیں پہنچتا۔

’سترہ برس کا لڑکا چھوٹا موٹا چور رہزن تو ہوسکتا ہے لیکن وہ کسی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ کس طرح ہوسکتا ہے؟‘ایک پولیس افسر نے الٹا سوال مجھ سے ہی کرڈالا۔

مقتول فیضان دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور اس کا ساتھی مقتول فہیم اپنے گھر میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔فہیم کے بھائی محمد وسیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کی اپنے پانچ برس بڑے فیضان سے دوستی تھی اور وہ ایک دو بار ان کے گھر بھی آیا تھا۔

فیضان اور فہیم دونوں کسی خاص سلسلہ روزگار سے وابستہ نہیں تھے اور چھوٹے موٹے کام کر لیا کرتے تھے۔ایک قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے سبزی منڈی میں پلے داری یعنی سبزی ڈھونے کا کام بھی کیا ہے لیکن فیضان جہاں کام کرتا تھا وہاں کے ایک دکاندار نے بتایا کہ وہ کوئی چھ مہینے سے سبزی منڈی کو چھوڑ چکا ہے۔

فیضان کے بھائی عمران حیدر کے مطابق اب وہ پرانے موبائل فون کی خرید و فروخت کیا کرتا تھا۔

فیضان کے ورثا کا کہنا ہے کہ ان لڑکوں پر ڈاکو ہونے کا الزام فیضان کے بڑے بھائی کے قتل کے ملزمان لگا رہے ہیں۔فیضان کا بڑا بھائی ایک عورت سے تعلقات کے شبہ میں قتل کر دیاگیا تھا اور فیضان کے ورثا کے بقول وہ اسی مقدمے کی سماعت کے بعد لوٹ رہے تھے جب ان پر ریمنڈ ڈیوس نے فائرنگ کی تھی۔