وزراء کو فارغ کرنے کی سمری

پنجاب میں مسلم لیگ ن کا پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے وزراء کو کابینہ سے فارغ کرنے کے لیے سمری گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے ۔
ادھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ مفاہمت کی سیاست جاری رکھیں گے ۔
پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق سولہ رکنی صوبائی کابینہ میں شامل پیپلز پارٹی کے سات وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے لیے وزیر اعلیٰ شہبازشریف کی ہدایت کی روشنی میں سمری گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کو بھجوادی گئی ہے۔
اس سے پہلے یہ اطلاع تھی کہ صوبائی کابینہ کو ہی تحلیل کردیا جائے اور ازسر نو کابینہ تشکیل دی جائےگی تاہم کابینہ کو تحلیل کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
نامہ نگار عبادالحق کے مطابق فارغ کیے جانے والوں میں پیپلز پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض کے علاوہ تنویر اشرف کائرہ، اشرف سوہنا، تنویر اسلام، نیلم جبار اور فاروق یوسف گھرکی شامل ہیں۔
وزراء کو فارغ کرنےسے وزارت خزانہ کا قلمدان بھی خالی ہوگیا ہے۔ یہ وزارت پیپلز پارٹی کے رہنما تنویر اشرف کائرہ کے پاس تھی۔ صوبائی وزرا کے علاوہ پیپلز پارٹی کے تیرہ پارلیمانی سیکریٹریوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
امکان ہے کہ مسلم لیگ قاف کے یونیفکیشن گروپ کے رہنماؤں کو صوبائی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض کے بقول پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء نے کام بند کردیا ہے اور وہ اپنے دفاتر میں نہیں گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ نون پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ چلے نہ چلے لیکن اس کے باوجود دس نکاتی اینجڈے کو مکمل کیا جائے اور بقول ان کے اس ایجنڈے کو پنجاب میں ہونے والے معاملات سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی لیکن ہارس ٹریڈنگ نہیں کرے گی۔ ان کے بقول ’اب بھی ایسے لوگ ہیں جو پیپلز پارٹی کے ساتھ آنا چاہتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی ہارس ٹریڈنگ پر یقین نہیں رکھتی۔‘
یوسف رضا گیلانی نےکہا کہ انہیں نوازشریف سے کوئی گلہ نہیں ہے اور وہ نواز شریف کے لب ولہجے کے باوجود ان کا احترام کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کو دعوت دیں گے۔
ملک میں وسط مدتی انتخابات کے سوال پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ چاروں صوبے بلدیاتی انتخابات نہیں کرا سکتے ہیں تو عام انتخابات کیسے ہوں گے۔



















