استعفے ورنہ پنجاب کابینہ تحلیل: نواز لیگ

فائل فوٹو، نواز شریف
،تصویر کا کیپشنمیاں نواز شریف نے گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبائی سطح پر بھی اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا
وقت اشاعت

پاکستان مسلم لیگ نون نے کہا ہے کہ اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی کے وزراء خود مستعفی نہیں ہوتے تو وہ انہیں برطرف کرنے کے بجائے کابینہ تحلیل کرنے کو ترجیح دے گی۔

میاں نواز شریف نے گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبائی سطح پر بھی اتحاد ختم کرکے مسلم لیگ قاف کے منحرف دھڑے یونیفیکیشن بلاک کے ساتھ ملکر نئی حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جس پر صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء استعفے نہیں دیں گے۔ ان کی جماعت میاں نواز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے وزراء کو صوبائی حکومت سے الگ کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کا انتظار کرے گی اور اسکے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرے گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے احمد رضا سے بات چیت کرتے مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئینی طور پر دو آپشنز باقی رہ جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کابینہ کو تحلیل کرکے نئی کابینہ تشکیل دی جائے اور دوسرے ان وزراء کو کابینہ سے نکال دیا جائے یا دوسرے معنوں میں برطرف کردیا جائے۔

’ہماری جماعت کی خواہش ہے کہ انہیں برطرف کرنے کی نوبت نہ آئے اور اگر وہ خود مستعفی نہیں ہورہے حالانکہ اخلاقاً انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے اور ان کی جماعت اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کرچکی ہے۔ تو دوسری صورت میں کابینہ تحلیل کرنی پڑے گی جس کا فیصلہ شاید آج ہوجائے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کابینہ تحلیل کی جائے کیونکہ ہم کسی کی تذلیل نہیں چاہتے۔‘

مسلم لیگ نون پر ہارس ٹریڈنگ اور لوٹا کریسی کے الزامات پر بات کرتے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ان کی جماعت کا مسلم لیگ قاف کے دھڑے کے ساتھ اتحاد ہارس ٹریڈنگ نہیں ہے۔

’یہ جو پی ایم ایل کیو ہے۔ وہ ناجائز پیداوار ہے فوجی آمریت کی۔ اسے ہم جماعت تسلیم ہی نہیں کرتے اور ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ایسی ناجائز پیداواروں کو ٹھکانے لگایا جائے۔میں ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات کہتا ہوں کہ یہ پی ایم ایل این کی سیاسی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو جو بیوفائی کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں سیاست میں وہاں پہنچائے کہ اسکے بعد کوئی سیاست میں بیوفائی نہ کرے اور مشکل وقت میں عوام سے غداری نہ کرے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت فی الحال وسط مدتی انتخابات کی بات نہیں کررہی اور وہ سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے لیکن موجودہ شکل میں شاید پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی مدت پوری نہ کرپائے۔

’پیپلز پارٹی پر ہم دباؤ بڑھائیں گے ایوان کے اندر بھی اور باہر بھی۔ اور ہماری خواہش ہوگی کہ یہ ایوان اور پارلیمینٹ اپنی عمر بھی پورے کرے اور ڈلیور بھی کرے اور اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ڈلیور کرتی نظر آئے گی تو ہمیں خوشی ہوگی۔‘